ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں مسجد پر پتھراؤ: شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، یو ٹی قادر

بھٹکل میں مسجد پر پتھراؤ: شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، یو ٹی قادر

Sun, 20 Sep 2026 12:55:19    S O News
بھٹکل میں مسجد پر پتھراؤ: شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، یو ٹی قادر

منگلورو، 20 ستمبر (ایس او نیوز): بھٹکل میں مسجد پر پتھراؤ کے واقعہ پر کرناٹک کے وزیر صحت یو ٹی قادر نے کہا کہ شرپسند عناصر کی شناخت کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

منگلورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یو ٹی قادر نے کہا کہ کرناٹک کے عوام امن، محبت اور سکون کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں تقریباً تمام مذہبی پروگراموں میں مختلف ذاتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ شرکت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ اس طرح کی حرکتیں کون انجام دیتا ہے، تاہم ایسے واقعات کے ذمہ دار شرپسندوں کا پتہ لگا کر ان کے خلاف سخت کارروائی کرنا ضروری ہے۔

یو ٹی قادر نے کہا کہ جو لوگ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرتے ہیں، وہ کسی بھی ذات یا مذہب سے تعلق نہیں رکھتے۔ ان کے بقول، ایسے عناصر سماجی نظام سے باہر رہ کر معاشرے کے امن و سکون کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ بھٹکل کے گلمی علاقے میں گنیش وسرجن جلوس کے دوران مسجدِ اسماعیل اور تاج السنہ عربک مدرسہ پر پتھراؤ کے واقعہ کے بعد پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا تھا، جبکہ بعد میں گنیش جلوس پر مبینہ پتھراؤ کے الزام میں ایک جوابی شکایت بھی درج کی گئی تھی۔ واقعہ کے بعد ضلع اور مغربی رینج کے اعلیٰ پولیس افسران نے بھٹکل پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور مختلف طبقات کے نمائندوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حساس مقامات پر اضافی فورس بھی تعینات کی تھی۔

دریں اثنا، 18 ستمبر کو منگلورو میں ریاستی کابینہ کی خصوصی میٹنگ منعقد ہوئی تھی، جس میں وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، نائب وزیر اعلیٰ جی. پرمیشور، وزیر داخلہ پریانک کھرگے سمیت کابینہ کے دیگر وزراء نے شرکت کی تھی۔ پتہ چلا ہے کہ بھٹکل میں مسجد پر پتھراؤ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں وزیر اعلیٰ کو بھی معاملے سے باخبر کیا گیا تھا۔


Share: