کاروار، 19 ستمبر (ایس او نیوز) ریاستی وزیر تعاون اور اتر کنڑا ضلع انچارج وزیر لکشمن ساودی نے کہا ہے کہ اتر کنڑا ضلع میں ترقی اور سیاحت کو نئی رفتار دینے کے مقصد سے منگلورو میں منعقدہ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے مالیت کے مختلف منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔
انہوں نے ہفتہ کو کمٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ساحلی علاقے کی ترقی کے لیے تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان میں حکومت اور عوامی شراکت داری (پی پی پی) کے تحت شروع کیے جانے والے منصوبے بھی شامل ہیں۔
لکشمن ساودی نے کہا کہ ہوائی اڈے، بندرگاہوں اور سیاحت کی ترقی کے لیے بہتر ٹرانسپورٹ نظام ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت ساحلی علاقے میں ہوائی اڈہ تعمیر کرنے کے لیے 250 سے 260 کروڑ روپے کی گرانٹ کو منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سمندر کے درمیان موجود جزائر کے بہتر استعمال اور نئی بندرگاہوں کی ترقی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کستوری رنگن رپورٹ کے نفاذ کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقے کے عوام کی رائے اور مفادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اس معاملے پر پیر کو پورے دن قانون ساز اسمبلی میں بحث کے لیے وقت مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اپوزیشن لیڈروں سے بھی پارٹی سے بالاتر ہو کر تجاویز حاصل کی جائیں گی۔
ریاست میں گزشتہ 50 برسوں میں نہ دیکھی گئی شدید خشک سالی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ 200 سے زائد تعلقہ جات میں پینے کے پانی، فصلوں کے نقصان اور روزگار سے متعلق مسائل پر اسمبلی اجلاس میں دو دن تک تفصیلی بحث کی جائے گی اور مناسب حل تلاش کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’پرجا سیوا آندولن‘ کے دوران عوام کی جانب سے پیش کی جانے والی شکایات اور درخواستوں پر فوری کارروائی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 15 دن کے اندر مسائل حل کرنے کی ہدایت افسران کو دی گئی ہے۔ وزیر نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی خواہش کے مطابق سرکاری اسکیموں کو عوام تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے حکومت پابند عہد ہے۔