نئی دہلی ، 25/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)شمال مغربی اور وسطی ہندوستان اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں سورج کی تپش نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ دہلی-این سی آر سمیت بڑے شہری علاقوں میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ گاڑیوں اور صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی علاقوں میں صبح کے اوقات کے بعد ہی ہیٹ ویو کا اثر محسوس ہونے لگتا ہے، جس کے باعث لوگوں کا باہر نکلنا دشوار ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گرمی کی لہر آئندہ چند دنوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔ اس کے برعکس، شمالی پہاڑی علاقوں اور شمال مشرقی خطوں میں بارش اور کہیں کہیں برفباری کے باعث موسم نسبتاً معتدل اور خوشگوار ہے۔
ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ہریانہ، چنڈی گڑھ، دہلی، راجستھان، مغربی اتر پردیش اور مغربی بنگال کے گنگا کے میدانی علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے گرم لہر جاری ہے۔ اس سے ہیٹ ویو کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق جموں و کشمیر، اتراکھنڈ، آسام، اروناچل پردیش، منی پور، کرناٹک اور مہاراشٹر کے کچھ حصوں میں بارش اور تیز ہوائیں چلنے سے لوگوں کو گرمی سے راحت ملی ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پچھلی بار دنیا کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچنے والی موسمی واردات ’ال نینو‘ کے سال 2026 کے وسط میں پھر سے لوٹنے کا اندیشہ ہے۔ جنیوا واقع اقوام متحدہ کے موسم اور ماحولیاتی ایجنسی ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کہا کہ آئندہ مائی سے جولائی کے درمیان ال نینو کے حالات حالات پیدا ہونے کے پورے آثار ہیں اور اس کی ابتدائی علامات بھی نظر آنے لگی ہیں۔ اس سے وسطی اور مشرقی استوائی بحر الکاہل میں سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے ہواؤں، دباؤ اور بارش کے پیٹرن کو تبدیل کرتا ہے. ال نینو اور اس کے مخالف لا نینا اور عام حالات کے درمیان موسمی حالات میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ سابقہ ال نینو کی وجہ سے 2023 اب تک کا دوسرا سب سے گرم سال اور 2024 اب تک کا سب سے گرم سال بن گیا۔
اس دوران اتر پردیش میں گرمی کا قہر اپنے شباب پر شدید گرمی کی لہر زوروں پر ہے۔ جمعہ کو ریاست کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی زد میں رہے۔ گرم لہر کی وجہ سے اب معمولات زندگی اور روبز مرہ کی سرگرمیاں متاثر ہونے لگی ہیں۔ پریاگ راج، وارانسی، ہردوئی، آگرہ، میرٹھ، علی گڑھ اور شاہجہاں پور جیسے شہروں میں شدید گرم لہر کا قہر برپا رہا اور دوپہر میں سڑکوں پر ہوکا نظر آیا۔ یہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45.2 ڈگری سیلسیس کے ساتھ پریاگ راج ریاست میں سب سے زیادہ گرم رہا، جب کہ باندہ اور ہمیر پور میں بالترتیب 44.3 ڈگری سیلسیس، 44.2 ڈگری سیلسیس اور 44.3 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
اس دوران ڈبلیو ایم او نے کہا کہ اس کی تازہ ترین ماہانہ عالمی موسمی آب و ہوا کی تازہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سطح سمندر کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو مئی-جولائی کے اوائل کی شروعات میں ال نینو کے حالات کی ممکنہ واپسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پیشین گوئیاں بتاتی ہیں کہ اگلے 3 ماہ کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا۔