دبئی2 جولائی (ایس او نیوز):اسرائیلی افواج کی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران 600 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں اکثریت اُن افراد کی ہے جو خوراک اور امداد کے حصول کے لیے غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن (GHF) کے مراکز پر جمع تھے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق صرف بدھ کے دن 43 فلسطینی شہید کر دیے گئے، جن میں زیادہ تر بے گھر اور امداد کے متلاشی افراد شامل تھے۔ یہ افراد خیمہ بستیوں میں پناہ لیے ہوئے تھے۔
ادھر مغربی کنارے کے طولکرم پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی افواج نے 100 سے زائد گھروں کو منہدم کر دیا۔ انسانی حقوق کے ادارے "بمکوم" کے مطابق، یہ منظم انہدامات اسرائیل کی طرف سے زمین پر قبضے کی ایک حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
دریں اثنا، جنگ بندی کی ممکنہ پیش کش پر بات چیت جاری ہے، جس میں 60 دن کی عارضی جنگ بندی شامل ہے۔ تاہم حماس نے اس پر فی الحال کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی پر آمادہ ہے، لیکن ٹرمپ کو غالباً اسرائیل کے فلسطینوں پر ہورہے لگاتار اور سلسلہ وار حملے نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے اس موقع کو گنوادیا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔