ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / دنیا بھر میں ہندوستانیوں کی ملک بدری میں اضافہ؛ سعودی عرب سب سے آگے، امریکہ دوسرے نمبر پر

دنیا بھر میں ہندوستانیوں کی ملک بدری میں اضافہ؛ سعودی عرب سب سے آگے، امریکہ دوسرے نمبر پر

Sat, 27 Dec 2025 19:44:01    S O News
دنیا بھر میں ہندوستانیوں کی ملک بدری میں اضافہ؛ سعودی عرب سب سے آگے، امریکہ دوسرے نمبر پر

نئی دہلی 27/ڈسمبر (ایس او نیوز) : وزارتِ خارجہ (MEA) کی جانب سے راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران دنیا کے 81 ممالک سے مجموعی طور پر 24,600 سے زائد بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ حیران کن طور پر سب سے زیادہ بھارتیوں کو سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیا گیا، جبکہ امریکہ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا۔

اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب نے 2025 میں 11,000 سے زائد بھارتیوں کو واپس بھیجا۔ بھارتی سفارت خانہ ریاض کے مطابق 7,019 جبکہ جدہ میں بھارتی قونصلیٹ کے مطابق مزید 3,865 بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں زیادہ تر ڈی پورٹیشنز کی وجوہات میں اقامہ سے متعلق مسائل، ویزا یا رہائشی مدت سے زیادہ قیام، اور دیگر اجازت ناموں کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

وہیں امریکہ سے تقریباً 3,800 بھارتیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، جو گزشتہ پانچ برسوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور (Trump 2.0) میں امیگریشن قوانین میں سختی، ویزا جانچ میں اضافہ، آئی سی ای (ICE) چھاپوں اور H-1B سمیت دیگر ورک ویزا پر کریک ڈاؤن کے باعث سامنے آئی۔ امریکہ میں سب سے زیادہ ڈی پورٹیشنز واشنگٹن ڈی سی (3,414) سے ہوئیں، جبکہ ہیوسٹن سے 234 بھارتی شہریوں کو واپس بھیجا گیا۔

دیگر ممالک کی بات کریں تو میانمار سے 1,591، ملیشیا سے 1,485، متحدہ عرب امارات سے 1,469، بحرین سے 764، تھائی لینڈ سے 481 اور کمبوڈیا سے 305 بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں بھارتی مزدور تعمیراتی شعبے، کیئر گیونگ اور گھریلو ملازمتوں سے وابستہ ہیں، جہاں اکثر لوگ ویزا خلاف ورزیوں، ورک پرمٹ کے مسائل اور مقامی قوانین سے لاعلمی کے باعث مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تلنگانہ حکومت کی این آر آئی ایڈوائزری کمیٹی کے نائب چیئرمین بھیما ریڈی کے مطابق خلیجی ممالک میں ڈی پورٹیشن کا یہ ایک مستقل رجحان ہے، جہاں کم ہنر مند مزدور ایجنٹوں کے ذریعے جاتے ہیں اور بعض اوقات اضافی آمدنی کی کوشش میں معمولی جرائم یا قانون شکنی میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی معاملات میں مقامی قوانین سے لاعلمی بھی بھاری قیمت چکانے کا سبب بنتی ہے۔

میانمار اور کمبوڈیا میں ڈی پورٹیشنز کا انداز مختلف پایا گیا، جہاں متعدد معاملات کو سائبر غلامی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی شہریوں کو بہتر تنخواہ والی نوکریوں کا جھانسہ دے کر غیر قانونی سرگرمیوں میں دھکیلا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں حراست میں لے کر ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔

طلبہ کے حوالے سے بھی تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ برطانیہ سے سب سے زیادہ 170 بھارتی طلبہ ڈی پورٹ کیے گئے، اس کے بعد آسٹریلیا (114)، روس (82) اور امریکہ (45) کا نمبر آتا ہے۔

دریں اثنا بھارتی حکومت نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی اور بہبود کو اعلیٰ ترجیح دی جاتی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق بھارتی مشنز اور سفارت خانے میزبان ممالک کی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر شہریوں کی مدد، بازیابی اور وطن واپسی کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

بھارتی شہری مدد کے لیے MADAD، CPGRAMS، eMigrate جیسے شکایتی پورٹلز، 24 گھنٹے ہیلپ لائنز، ای میل، واک اِن سہولت اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھارتی مشنز سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے وزارتِ داخلہ نے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (I4C) بھی قائم کیا ہے، جبکہ وزارتِ خارجہ جعلی نوکریوں کے جال سے خبردار کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً ایڈوائزری جاری کرتی رہتی ہے۔


Share: