نئی دہلی، 30/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) ملک میں آئندہ مردم شماری کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مردم شماری کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے حکومت آج اس کے طریقۂ کار کا تفصیلی خاکہ پیش کرے گی۔ مردم شماری کے کمشنر مرتیونجے کمار نارائن اس سلسلے میں ایک اہم پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو آگاہ کریں گے کہ سنہ 2027 کی مردم شماری کس انداز میں مکمل کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق اس بار مردم شماری کا عمل پہلی مرتبہ مکمل طور پر آن لائن ہوگا، جس کے تحت شہری خود اپنے کوائف درج کریں گے۔ اس طریقے کو زیادہ شفاف، تیز اور قابل اعتماد بنانے کے لیے ایک خصوصی سیلف اینیومریشن پورٹل تیار کیا گیا ہے، جہاں ایک مقررہ مدت کے اندر لوگوں کو اپنی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔
اس مردم شماری کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ایک ہی گھر میں ساتھ رہنے والے لیو اِن تعلقات کے حامل جوڑوں کو، اگر وہ اپنے رشتے کو مستحکم سمجھتے ہیں، تو شادی شدہ جوڑے کے طور پر شمار کیا جا سکے گا۔
مردم شماری کا پہلا مرحلہ، جسے ہاؤس لسٹنگ کہا جاتا ہے، یکم اپریل سے شروع ہو کر 30 ستمبر تک جاری رہے گا۔ اس مرحلے میں گھروں کی فہرست سازی کے ساتھ ساتھ 33 مختلف نکات پر معلومات جمع کی جائیں گی، جن میں عمارت کی نوعیت، تعمیراتی مواد، پینے کے پانی کی دستیابی، صفائی کا نظام، گھریلو اثاثے اور کھانا پکانے کے ایندھن جیسی تفصیلات شامل ہوں گی۔ اسی مرحلے میں گھر کے سربراہ کی جنس، یعنی مرد، خاتون یا ٹرانسجینڈر، بھی درج کی جائے گی۔
دوسرا مرحلہ فروری 2027 میں شروع ہوگا، جس میں افراد کی ذاتی معلومات جیسے نام، عمر، تاریخ پیدائش، ازدواجی حیثیت، تعلیم، پیشہ، مذہب، ذات یا قبیلہ، معذوری اور نقل مکانی سے متعلق تفصیلات اکٹھی کی جائیں گی۔ اس بار بے گھر افراد کو بھی اس عمل میں شامل کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ کوئی بھی شہری اس اہم قومی عمل سے باہر نہ رہے۔
اس وسیع مہم کے لیے ملک بھر میں تقریباً 30 لاکھ اہلکار، جن میں شمار کنندگان اور نگران شامل ہوں گے، تعینات کیے جائیں گے۔ یہ اہلکار محفوظ موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے گھر گھر جا کر معلومات کی تصدیق اور اندراج کا کام انجام دیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مردم شماری کو نہ صرف زیادہ مؤثر بلکہ محفوظ اور جامع بنایا جا سکے گا۔