تہران / نئی دہلی، 16 جون (ایس او نیوز) ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید تنازعے نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ 13 جون سے شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد ایران نے اسرائیل کے کئی علاقوں، پر بیلسٹک میزائل داغے، جن کے نتیجے میں اب تک اسرائیل میں 24 افراد ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ایران کی جانب سے ہونے والے جوابی حملوں میں بھی 224 سے زائد ایرانی شہری ہلاک اور 1,277 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ انسانی حقوق امریکی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 406 ہو چکی ہے۔
اس سنگین صورتِ حال میں ایران میں موجود تقریباً 10,000 ہندوستانی شہریوں کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے، جن میں 1,500 سے زیادہ طلبہ شامل ہیں۔ یہ طلبہ تہران، شیراز اور قم جیسے شہروں میں مختلف جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تہران میں مقیم کشمیری طالبہ امتسال مہیدین نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ وہ اور دیگر طلبہ روزانہ دھماکوں کی آوازوں سے نیند سے جاگ اٹھتے ہیں، اور مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ بعض طلبہ کو کھانے پینے اور مالی اخراجات کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
ہندوستانی حکومت نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے ایران میں مقیم شہریوں سے رابطے قائم کیے ہیں اور انخلا کے لیے متبادل راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ چونکہ ایران کی فضائی حدود بند ہیں، اس لیے انخلا کا منصوبہ آرمینیا کی سرحد کے نوردوز کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ یہاں سے طلبہ کو بسوں کے ذریعے لے جایا جائے گا اور پھر آرمینیا کے ذریعے وطن واپس بھیجا جائے گا۔ ہندوستانی حکومت نے اس مقصد کے لیے آرمینیا کے سفیر سے رابطہ بھی کیا ہے، اور پورے انخلا کی نگرانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ پروازیں بند ہیں، مگر زمینی سرحدیں کھلی ہیں، اور غیر ملکی شہری اپنی سفارتی مشنز کے ذریعے پیشگی اجازت حاصل کر کے ملک چھوڑ سکتے ہیں۔ ایران سے روانگی کے لیے ہر شخص کو اپنا نام، پاسپورٹ نمبر، روانگی کا وقت، گاڑی کی معلومات اور جس بارڈر سے نکلنا ہے وہ اطلاع دینا لازم ہے۔
دوسری طرف، جموں و کشمیر سمیت ملک بھر میں والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے فکرمند ہیں۔ سرینگر اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے جہاں والدین نے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہر لمحہ قیمتی ہے، اور اگر تاخیر ہوئی تو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔"
طلبہ نے بھی اپنی حالت زار بیان کرتے ہوئے اپیل کی ہے: "ہمیں فوراً یہاں سے نکالا جائے، ورنہ حالات ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔" طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
یہ ساری صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران میں ہندوستانی طلبہ کی حالت انتہائی نازک ہے، اور حکومت ہند کی کوششیں بروقت اور موثر ہونی چاہئیں تاکہ کسی بڑے نقصان سے پہلے ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔