ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ایران میں حالات بدستور کشیدہ، انٹرنیٹ بند، عالمی سطح پر ردِعمل

ایران میں حالات بدستور کشیدہ، انٹرنیٹ بند، عالمی سطح پر ردِعمل

Mon, 05 Jan 2026 17:14:52    S O News

تہران، 5 /جنوری (ایس او نیوز / ایجنسی)ایران میں پچھلے چند روز سے جاری مظاہروں نے گزشتہ ۱۶؍ گھنٹے میں شدت اور کشیدگی کے نئے مرحلے میں قدم رکھا ہے۔ شاہراہوں، بازاروں اور یونیورسٹیوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں، جن کی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، ریال کی قدر میں تاریخی گراوٹ اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہے۔ انسانی حقوق کے گروپس کے مطابق، ملک بھر میں جاری مظاہروں میں کم از کم ۱۶؍ افراد ہلاک اور سیکڑوں افراد گرفتار کئے جا چکے ہیں جبکہ حالات بعض شہروں میں پرتشدد ٹکراؤ کا روپ بھی لے چکے ہیں۔مظاہرے تہران، شیراز، اصفہان اور ملک کے مغربی علاقوں میں دیکھے گئے، جہاں نوجوان، تاجر، طلبہ اور خواتین سمیت مختلف طبقات نے شرکت کی۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی میں رکاوٹ کے شواہد بھی ملے ہیں، جس کے باعث عوامی رابطے میں مشکلات اور معلوماتی خلل پیدا ہوا۔ سیکوریٹی کے سخت اقدامات میں متعدد شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا اور کچھ شہروں میں موبائل نیٹ ورک سست یا نامناسب ہو گیا ہے۔ عالمی سطح پر ایران کی داخلی کشیدگی نے دیگر محاذوں پر بھی ردعمل پیدا کیا ہے، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ تعلقات میں۔ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران میں سیکوریٹی فورسیز کی مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت پرتشدد ردعمل اختیار کرے تو امریکہ مظاہرین کے ساتھ ہے، جس کے جواب میں ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور اپنے دفاع کے عزم کو دہرایا۔ اسی دوران ایران نے ایک اہم تکنیکی کامیابی کا اعلان بھی کیا ہے ، تین نئے سیٹیلائٹس کو مدار میں کامیابی سے بھیج کر ابتدائی جانچ مکمل کر لی گئی ہے، جسے حکومت نے دفاعی اور سائنسی ترقی کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایران کی معاشی مشکلات کا پس منظر عالمی پابندیوں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹوں، بدانتظامی اور کرنسی کے مسلسل گرتی ہوئی قدر سے جڑا ہوا ہے۔

ایران مظاہرے: ٹائم لائن (حالیہ واقعات سے پیچھے کی طرف)

(۱) احتجاج ۲۲۲؍ مقامات تک پھیل گیا 
حقوقِ انسانی کی تنظیم ایچ آر اے این اے کے مطابق، ایران بھر میں ۷۸؍ شہروں میں ۲۲۲؍ مقامات پر مظاہرے، ہڑتالیں اور طلبہ کی شرکت دیکھی گئی، جس سے کل ہلاکتیں ۲۰؍ تک پہنچ گئیں۔ سیکوریٹی فورسیز اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں جاری ہیں اور متعدد زخمی اور گرفتار ہوئے ہیں، مظاہرے صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے قصبوں تک بھی پھیل چکے ہیں۔
(۲) سرکاری ردّعمل
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے احتجاج کو ’’دشمن کی سازش‘‘ قرار دیا، اور حکومت مخالف مظاہرین پر سخت کارروائی کا وعدہ کیا۔
(۳) امریکہ کی وارننگ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر حکومت مظاہرین کو زبردستی کچلے گی تو امریکہ سخت ردّعمل دے سکتا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
(۴ ) انٹرنیٹ میں خلل
ایران میں انٹرنیٹ کی رفتار اور خدمات میں بڑے پیمانے پر خلل اور رکاوٹیں رپورٹ ہو رہی ہیں جبکہ حکام نے کچھ علاقوں میں سروس کو سست یا محدود کر دیا ہے ، اس کا مقصد احتجاج کو سوشل میڈیا پر پھیلنے سے روکنا سمجھا جا رہا ہے۔
(۵) احتجاج کی شروعات
یہ سلسلہ ۲۸؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو شروع ہوا جب تہران کے بازاروں میں مزدور، تاجر اور دکاندار بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری، اور ریال کی گرتی قدر کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ، بنیادی مطالبات سے بڑھتے ہوئے مظاہرے جلد ہی بڑے سیاسی مطالبات تک پہنچ گئے۔
(۶) سیکوریٹی فورسیز کا جواب
حکام نے مظاہرین کو ’’بدامنی پھیلانے والے عناصر‘‘ قرار دیتے ہوئے طاقت استعمال کی، جس کے نتیجہ میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، اسکولیں، سرکاری دفاتر اور یونیورسٹیاں بند کرنے جیسے اقدامات کئے گئے۔
(۷) اقتصادی بحران
ریاستی کرنسی ایران ریال کی قدر بے تحاشا گِر چکی ہے، افراطِ زر ۵۰؍ فیصد سے زائد، اور بنیادی اشیائے خوردونوش ناقابلِ برداشت حد تک مہنگی ہو چکی ہیں ، یہی اقتصادی دباؤ احتجاج کا سب سے بڑا محرک ہے۔
(۸) سیاست اور سوشل میڈیا
مظاہروں نے صرف اقتصادی مطالبات تک ہی نہیں بلکہ حکومت مخالف نعرے، ’’مرگ بر خامنہ ای‘‘ جیسے سیاسی مطالبات بھی سامنے لائے، جس سے عوامی ناراضگی ایک وسیع سیاسی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
(۹) انٹرنیشنل سیاسی دباؤ
قطعی معاشی تناؤ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایران اور امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات پر منفی اثرات مرتب کئےہیں ، ایران نے بار بار بیرونی سازش کے الزامات عائد کئے ہیں جبکہ واشنگٹن نے مظاہرین کی حمایت کی باتیں کی ہیں۔


Share: