ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / جنگ ہویا امن، عالمی منڈی تیل سے لبریز؛ ایران۔اسرائیل جنگ کے بعد قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان

جنگ ہویا امن، عالمی منڈی تیل سے لبریز؛ ایران۔اسرائیل جنگ کے بعد قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان

Tue, 24 Jun 2025 22:57:17    S O News
جنگ ہویا امن، عالمی منڈی تیل سے لبریز؛ ایران۔اسرائیل جنگ کے بعد قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان

بھٹکل 24 جون (ایس او نیوز) ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ اگرچہ ختم ہو چکی ہے، مگر اس کے اثرات عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی منڈی پر ابھی باقی ہیں۔ جس شدید بحران کی توقع کی جا رہی تھی، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے چند روز تک مارکیٹ کو ضرور ہلا دیا، مگر موجودہ صورتحال یہ ہے کہ خلیج فارس سے خام تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈی میں داخل ہو رہی ہے — اور وہ بھی ایک ایسی مارکیٹ میں جہاں پہلے ہی سپلائی ضرورت سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت منگل کے روز 70 ڈالر فی بیرل سے نیچے گر گئی۔

امریکی مالیاتی ادارے بلومبرگ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق شمالی نصف کرہ میں موسمِ گرما، جو روایتی طور پر تیل کی مانگ کو وقتی طور پر بڑھاتا ہے، شاید واحد عنصر ہے جو اس بڑھتی ہوئی سپلائی کے اثرات کو وقتی طور پر محدود کیے ہوئے ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں آئندہ دنوں میں مزید گراوٹ یقینی ہے۔

ایران۔اسرائیل جنگ نے نہ صرف 2025 بلکہ 2026 کے لیے بھی طلب و رسد کے توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایک طرف عالمی سطح پر معیشت میں سست روی، سیاسی بے یقینی اور سیاحت جیسے شعبوں میں مندی نے تیل کی مانگ کو کم کیا ہے، تو دوسری طرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کی سپلائی میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ایران، جو اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں کی زد میں رہا، اس وقت اپنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کر چکا ہے۔ اگرچہ ایران اپنے اعداد و شمار چھپاتا ہے، مگر سیٹلائٹ تصاویر اور شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون میں ایران کی پیداوار 35 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی ہے — جو پچھلے سات برسوں میں بلند ترین سطح ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ تیل کی قیمتوں کو 70 ڈالر فی بیرل سے اوپر نہیں جانے دینا چاہتے، اور ان کی کوشش ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی دروازے بند نہ ہوں۔ اسی وجہ سے ایران پر تیل کی نئی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان بہت کم ہے، اور اس معاملے پر ٹرمپ اور سابق صدر بائیڈن کے رویے میں کوئی بڑا فرق نظر نہیں آتا۔

سعودی عرب، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک نے بھی پچھلے مہینے کے مقابلے میں زیادہ تیل پیدا کیا ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں نرمی کے اعلان کے بعد متوقع تھا، مگر ابتدائی شپنگ ڈیٹا بتاتا ہے کہ برآمدات متوقع حد سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں، خاص طور پر سعودی عرب سے۔

تیل کی نقل و حمل پر نظر رکھنے والی معروف کمپنی پیٹرو لاجسٹکس کے مطابق سعودی عرب جون میں 96 لاکھ بیرل یومیہ کے حساب سے عالمی منڈی کو تیل فراہم کر رہا ہے، جو گزشتہ دو برسوں میں بلند ترین سطح ہے۔ کمپنی کے سربراہ ڈینیئل گربر کے مطابق عراق اور امارات کی برآمدات بھی جون کے ابتدائی دنوں میں خاصی زیادہ رہی ہیں — حالانکہ یہ ممالک اکثر اوپیک پلس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں مزید تیل آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

امریکہ میں شیل آئل کی پیداوار میں بھی غیر متوقع بحالی دیکھنے کو ملی ہے۔ مئی میں جب قیمتیں 55 ڈالر فی بیرل کے قریب تھیں، امریکی کمپنیاں شدید مالی دباؤ کا شکار تھیں، مگر حالیہ جنگ کے دوران جب تیل کی قیمت عارضی طور پر 78.40 ڈالر تک پہنچی، تو کمپنیوں کو مستقبل کے سودے طے کرنے کا موقع ملا، جس سے انہیں نئی ڈرلنگ جاری رکھنے کی سہولت حاصل ہوئی۔

ماہرین کے مطابق شیل آئل کی پیداوار قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتی ہے۔ 50 ڈالر پر کمپنیاں دیوالیہ ہونے لگتی ہیں، 55 پر بمشکل سنبھلتی ہیں، 60 پر حالات بہتر ہوتے ہیں، اور 65 یا 70 ڈالر سے اوپر پہنچتے ہی منافع خالصاً بہنے لگتا ہے۔

تیل کی منڈی کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ جب جنگیں ختم ہوتی ہیں تو تیل کی ترسیل مزید بڑھ جاتی ہے — جیسا کہ 1990-91 کی خلیجی جنگ یا 2003 کی عراق جنگ کے بعد دیکھا گیا۔ موجودہ ایران۔اسرائیل تنازعہ اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، اور جنگ بندی ابھی غیر یقینی ہے، مگر فی الحال عالمی سطح پر تیل کی سپلائی طلب سے کہیں زیادہ ہے، جس سے قیمتوں میں مزید کمی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔


Share: