واشنگٹن/ تہران، 24 جون (ایس او نیوز): امریکہ اور قطر کی ثالثی سے ایران اور اسرائیل کے درمیان طے پائی جنگ بندی اگرچہ پیر کی دیر رات نافذ ہوگئی، تاہم اس کا آغاز ہی کشیدگی سے ہوا۔ جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد اسرائیل نے ایران پر میزائل داغے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر ڈرون حملے کیے، جن میں آٹھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسرائیل کا آخری حملہ اصفہان کے قریب ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا، جس کے ردِ عمل میں تہران کی جانب سے بھی ڈرون حملے کیے گئے۔
منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے لان پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا، "ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، لیکن اسرائیل نے بھی کی۔" انہوں نے کہا، "میں ایران سے خوش نہیں ہوں، مگر اگر آج صبح اسرائیل نے دوبارہ کارروائی کی ہے تو میں اس سے واقعی بہت ناراض ہوں۔"
ٹرمپ نے مزید کہا، "مجھے اسرائیل کو پرسکون کرنا ہوگا۔ جیسے ہی ہم نے جنگ بندی کا معاہدہ کیا، اسرائیل نے آکر ایسی بمباری کی جیسی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔"
نیٹو سمٹ کے لیے نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ روانگی سے قبل، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لان پر میڈیا کے سامنے اسرائیل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور برہمی میں گالی دیتے ہوئے کہا: "یہ دو ممالک اتنے عرصے سے اور اتنی شدت سے لڑ رہے ہیں کہ اب انہیں خود معلوم نہیں کہ وہ *** کر کیا رہے ہیں۔"
ٹرمپ نے اسرائیل کو سوشل میڈیا پر واضح پیغام دیا: “ISRAEL. DO NOT DROP THOSE BOMBS” (اسرائیل! وہ بم نہ گراو)، اور کہا کہ فوری بمباری جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بعد میں تصدیق کی کہ ایک حملہ تہران کے قریب کیا گیا، مگر اس کے بعد مزید کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ ایران نے پہلے جنگ بندی توڑی، جبکہ ایران نے میزائل حملے سے انکار کرتے ہوئے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر ان پر حملہ نہیں کیا گیا تو وہ بھی فائرنگ نہیں کریں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی میزائل حملوں میں اسرائیل میں 28 افراد جان سے گئے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے اور اس جنگ بندی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جسے وہ اپنی ایک بڑی سیاسی کامیابی تصور کرتے ہیں۔