ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کرناٹک کے الند میں ووٹر لسٹ سے ناموں کو غائب کرنے کے معاملے میں ایس آئی ٹی نے کی پہلی گرفتاری

کرناٹک کے الند میں ووٹر لسٹ سے ناموں کو غائب کرنے کے معاملے میں ایس آئی ٹی نے کی پہلی گرفتاری

Sun, 16 Nov 2025 09:18:54    S O News
کرناٹک کے الند میں ووٹر لسٹ سے ناموں کو غائب کرنے کے معاملے میں ایس آئی ٹی نے کی پہلی گرفتاری

بنگلورو 16/نومبر (ایس او نیوز): کرناٹک کے الند اسمبلی حلقے میں ووٹر لسٹ سے ناموں کو مبینہ طور پر غائب کرنے اور بڑے پیمانے پر جعلی درخواستیں جمع کرانے کے معاملے میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) نے پہلی اہم گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ ایس آئی ٹی نے مغربی بنگال کے ضلع نادیہ کے ایک گاؤں سے 27 سالہ بپی آدیا کو گرفتار کرکے بنگلورو منتقل کردیا۔

ملزم کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر بنگلورو لایا گیا جہاں جمعرات کے روز اسے فرسٹ ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ (ACMM) کورٹ میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے بپی آدیا کو 12 دن کی پولیس حراست میں دیتے ہوئے ایس آئی ٹی کو اس کی گہرائی سے تفتیش کی اجازت دی۔

ذرائع کے مطابق SIT بپی آدیا کے ڈیجیٹل آلات کا تکنیکی معائنہ کرے گی اور انہیں فارنسک جانچ کے لیے روانہ کیا جائے گا تاکہ ووٹر لسٹ کے نام حذف کرنے میں استعمال ہونے والی آن لائن سرگرمیوں کا مکمل سراغ لگایا جا سکے۔

تحقیقات سے سامنے آیا ہے کہ آدیا مبینہ طور پر فون نمبرز اور OTPs کلبرگی میں چلائے جانے والے ایک عارضی کال سینٹر کو فراہم کرتا تھا۔ اس کال سینٹر کو چار مشتبہ افراد—اکرم، اشفاق، ندیم اور مشتاق—چلا رہے تھے، جنہوں نے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر 6,018 جعلی فارم 7 جمع کرائے تھے تاکہ 2023 کے انتخابات سے قبل الند حلقے کے حقیقی ووٹروں کے نام لسٹ سے حذف کرائے جا سکیں۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ SIT نے آدیا کو ان چاروں ملزمان کی بینک ٹرانزیکشنز اور ڈیجیٹل سراغ کی بنیاد پر شناخت کرکے گرفتار کیا۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ اشفاق، جو 2023 میں کلبرگی پولیس کی ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد دبئی چلا گیا تھا، حال ہی میں واپس آیا ہے اور اس نے SIT کے سامنے بیان دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں دو آن لائن پورٹلز سے ایک مخصوص کمیشن پر OTPs فراہمی کی جاتی تھی۔

75 موبائل نمبرز کا غلط استعمال

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے ملک بھر کے کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے 75 افراد کے موبائل نمبرز کا غلط استعمال کرتے ہوئے لاگ اِن آئی ڈیز تیار کی تھیں۔ ہر آئی ڈی کے لیے ایک منفرد OTP استعمال کیا جاتا تھا، جس کے ذریعے ووٹر لسٹ سے ناموں کے حذف کی درخواستیں جمع کرائی گئیں۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کی جانب سے امپرسنیشن، غلط معلومات فراہم کرنے اور جعلسازی کے الزامات پر درج شکایت کی بنیاد پر اس معاملے میں ایف آئی آر قائم کی گئی تھی۔

SIT کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں ممکن ہیں۔

 


Share: