ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ایوانِ بالا میں شمالی و کلیان کرناٹک کی ترقی سے متعلق چھ اہم قراردادیں متفقہ طور پر منظور

ایوانِ بالا میں شمالی و کلیان کرناٹک کی ترقی سے متعلق چھ اہم قراردادیں متفقہ طور پر منظور

Sat, 20 Dec 2025 17:48:37    S O News

بیلگاوی، 20/ دسمبر (ایس او نیوز / ایجنسی)سُوَرنا ودھان سودھا میں منعقدہ کرناٹک قانون ساز کونسل کے 157ویں اجلاس کے دوران ایوانِ بالا میں شمالی اور کلیان کرناٹک کی مجموعی ترقی سے متعلق چھ اہم قراردادیں اتفاقِ رائے سے منظور کر لی گئیں۔ ان قراردادوں کو قانون، پارلیمانی امور، قانون سازی اور سیاحت کے وزیر ایچ۔ کے۔ پاٹل نے پیش کیا۔ کسی بھی رکن کی جانب سے اعتراض نہ آنے پر کونسل کے چیئرمین بسوراج ہوراٹی نے قراردادوں کی منظوری کا باضابطہ اعلان کیا۔

اس موقع پر وزیر ایچ۔ کے۔ پاٹل نے کہا کہ ان متفقہ قراردادوں سے ریاستی حکومت کو مضبوط موقف حاصل ہوا ہے اور وزیر اعلیٰ سدارامیا کی قیادت میں حکومت ان نکات کی بنیاد پر مرکزی حکومت سے رجوع کرے گی تاکہ شمالی کرناٹک اور کلیان کرناٹک کے عوام کو ترقی اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔

ایوانِ بالا کی جانب سے منظور شدہ قراردادوں میں رائچور میں فوری طور پر ایمس (AIIMS) کے قیام کا مطالبہ، بنگلورو–میسور خطے میں مرکوز مرکزی اداروں میں سے کم از کم 25 اہم تحقیقی اداروں کو شمالی اور کلیان کرناٹک منتقل کرنے کی سفارش، کرشنا اپر بیراج منصوبے (مرحلہ سوم) کو قومی منصوبہ قرار دینے کا مطالبہ شامل ہے۔

اس کے علاوہ کلیان کرناٹک علاقائی ترقیاتی بورڈ کے لیے مرکزی حکومت سے 5000 کروڑ روپے کے خصوصی گرانٹ کی منظوری، کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایتھنول کی منصفانہ خریداری پالیسی نافذ کرنے، اور کلسا–بنڈوری نالہ موڑ منصوبے کو فوری منظوری دینے جیسے اہم مطالبات بھی قراردادوں کا حصہ ہیں۔

ایوان کا متفقہ مؤقف ہے کہ ان قراردادوں پر عمل درآمد سے ریاست میں موجود علاقائی عدم توازن کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور شمالی و کلیان کرناٹک جیسے پسماندہ علاقوں کی ترقی کو نئی رفتار حاصل ہوگی۔


Share: