ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / یو پی ایس سی امیدواروں کے لیے کرناٹک حکومت کا بڑا تحفہ؛ نئی دہلی میں ’کرناٹک بھون-4‘ کی تعمیر کو منظوری

یو پی ایس سی امیدواروں کے لیے کرناٹک حکومت کا بڑا تحفہ؛ نئی دہلی میں ’کرناٹک بھون-4‘ کی تعمیر کو منظوری

Sun, 21 Jun 2026 14:49:49    S O News
یو پی ایس سی امیدواروں کے لیے کرناٹک حکومت کا بڑا تحفہ؛ نئی دہلی میں ’کرناٹک بھون-4‘ کی تعمیر کو منظوری

بنگلورو 21/جون (ایس او نیوز): کرناٹک حکومت نے ریاست کے اُن طلبہ کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے جو یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کی آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس، آئی آر ایس اور دیگر قومی سطح کے مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے نئی دہلی کا رخ کرتے ہیں۔ ریاستی کابینہ نے نئی دہلی میں "کرناٹک بھون-4" (Karnataka Bhavan-4) کی تعمیر کو منظوری دے دی ہے، جہاں طلبہ کو رہائش اور مطالعے کی جدید سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ 

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار  نے 20 جون کو کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئی عمارت خاص طور پر سول سروسز اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عمارت اراکین اسمبلی، وزراء یا سرکاری افسران کے استعمال کے لیے نہیں بنائی جا رہی بلکہ اس کا مقصد غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کو دہلی میں مناسب رہائش اور تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔ 

سرکاری معلومات کے مطابق پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (PWD) اس منصوبے کو تقریباً 80 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کرے گا۔ عمارت میں طلبہ کے لیے ہاسٹل نما رہائش، مطالعہ گاہیں، لائبریری اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے ضروری بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ دہلی میں رہائش اور اخراجات کی بلند لاگت کی وجہ سے کرناٹک کے کئی باصلاحیت طلبہ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، اس لیے یہ منصوبہ اُن کے لیے بڑی سہولت ثابت ہوگا۔ 

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ کم از کم 50 فیصد نشستیں درج فہرست ذاتوں (SC) اور درج فہرست قبائل (ST) کے طلبہ کے لیے مختص کی جائیں گی، جبکہ باقی نشستیں دیگر طبقات کے امیدواروں کے لیے دستیاب ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد سماجی طور پر پسماندہ طبقات کے امیدواروں کو قومی سطح کے امتحانات میں بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ 

رپورٹوں کے مطابق نئی دہلی میں موجودہ کرناٹک بھون بنیادی طور پر انتظامی اور سرکاری کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ طلبہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر ایک علیحدہ تعلیمی و رہائشی مرکز کی ضرورت تھی، جسے اب "کرناٹک بھون-4" کی شکل میں عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ 

کابینہ اجلاس میں صرف کرناٹک بھون-4 ہی نہیں بلکہ دہلی میں ریاستی حکومت کے انتظامی ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریذیڈنٹ کمشنر آفس کی ازسرِ نو تنظیم کی جائے گی اور ایک خصوصی یونٹ قائم کیا جائے گا جو مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں، فنڈنگ کے مواقع اور دیگر ریاستوں کو ملنے والے فوائد کا جائزہ لے گا تاکہ کرناٹک زیادہ سے زیادہ مرکزی امداد حاصل کر سکے۔ 

وزیر اعلیٰ کے مطابق نئی ٹیم اس بات پر بھی نظر رکھے گی کہ تمل ناڈو، اندھرا پردیش، مہاراشٹرا اور گجرات  جیسی ریاستیں مرکز کی کن اسکیموں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں اور کرناٹک اُن مواقع سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ 

اس کے علاوہ حکومت دہلی میں ریٹائرڈ آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی آر ایس افسران کی خدمات حاصل کرنے کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ طلبہ کی رہنمائی اور ریاستی مفادات کے تحفظ کے لیے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ اور دیگر اہم قانونی معاملات کی پیروی کے لیے نئی دہلی میں ایک خصوصی قانونی سیل قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ 

تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مؤثر انداز میں نافذ ہوا تو کرناٹک کے دور دراز اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے دہلی میں UPSC اور دیگر مرکزی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری نسبتاً آسان ہو جائے گی۔ ریاستی حکومت اسے صرف ایک عمارت نہیں بلکہ مستقبل کے اعلیٰ سرکاری افسران تیار کرنے کے لیے ایک طویل مدتی سرمایہ کاری قرار دے رہی ہے۔ 


Share: