ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی ریاستی سطح پر احتجاج کی قیادت، وی بی جی رام جی اسکیم منسوخی اور منریگا کی بحالی کا مطالبہ

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی ریاستی سطح پر احتجاج کی قیادت، وی بی جی رام جی اسکیم منسوخی اور منریگا کی بحالی کا مطالبہ

Tue, 27 Jan 2026 19:29:56    S O News
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی ریاستی سطح پر احتجاج کی قیادت، وی بی جی رام جی اسکیم منسوخی اور منریگا کی بحالی کا مطالبہ

بنگلورو، 27 جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) مرکز کی بی جے پی قیادت والی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف کانگریس پارٹی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وی بی جی رام جی اسکیم کو منسوخ کر کے منریگا کو دوبارہ بحال نہیں کیا جاتا۔ یہ بات وزیر اعلیٰ سدارامیا  نے آج بنگلورو کے فریڈم پارک میں کے پی سی سی کی جانب سے منعقدہ ’’منریگا بچاؤ سنگرام‘‘ اور ’’راج بھون چلو‘‘ احتجاجی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حال ہی میں بی جے پی حکومت نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو بدنیتی کے ساتھ ختم کر کے ’’وی بی جی رام جی‘‘ کے نام سے نیا قانون نافذ کیا ہے، جسے ’’وکست بھارت – گارنٹی فار روزگار اینڈ آجی ویکا مشن (دیہی)‘‘ کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام غریبوں کے آئینی حقِ روزگار کو چھیننے کے مترادف ہے۔ سدارامیانے یاد دلایا کہ 2005 میں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دورِ حکومت میں منریگا قانون نافذ کیا گیا تھا، اور اسی طرح حقِ خوراک، حقِ تعلیم، حقِ معلومات، حقِ کام اور جنگلاتی حقوق جیسے عوام دوست قوانین بھی کانگریس حکومت کی کاوش ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین، دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور چھوٹے کسانوں کے مسائل پر صرف کانگریس پارٹی ہی سنجیدگی سے فکر کرتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منریگا کے ذریعے دیہی علاقوں میں لاکھوں لوگوں کو روزگار مل رہا تھا، جن میں 53 فیصد خواتین، 28 فیصد درج فہرست ذات و قبائل اور تقریباً 5 لاکھ معذور افراد شامل تھے۔ لیکن اب بی جے پی–آر ایس ایس کی سازش ہے کہ غریب لوگ ہمیشہ مزدور اور خادم بن کر رہیں، خود مختار نہ بن سکیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سماج میں عدم مساوات کو ہمیشہ کے لیے قائم رکھنا ہی آر ایس ایس کا اصل ایجنڈا ہے۔ منریگا کے تحت پہلے گرام سبھا اور گرام پنچایتیں کام کا تعین کرتی تھیں، جس سے مقامی ضرورتوں کے مطابق روزگار فراہم ہوتا تھا، مگر اب بی جے پی حکومت غریب دیہی عوام کے روزگار کا فیصلہ دہلی میں بیٹھ کر کرنا چاہتی ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منریگا کے تحت مزدوروں کو 100 دن کے روزگار کی ضمانت حاصل تھی، لیکن وی بی جی رام جی کے نفاذ سے یہ ضمانت ختم ہو گئی ہے۔ سابقہ منریگا کا پورا خرچ مرکزی حکومت برداشت کرتی تھی، مگر نئی اسکیم کے تحت ریاستوں پر 40 فیصد بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جو ریاستوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔

سدارامیا نے کہا، ’’اگر گوڈسے نے مہاتما گاندھی کو گولی مار کر قتل کیا، تو بی جے پی نے منریگا کو ختم کر کے گاندھی جی کو دوسری بار قتل کیا ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی منریگا کی منسوخی پر بحث سے بھاگ رہی ہے، حالانکہ اس موضوع پر خصوصی پارلیمانی اجلاس بلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ وی بی جی رام جی کی منسوخی اور منریگا کی بحالی کے مطالبے پر ریاست بھر میں پدیاترا شروع کی گئی ہے اور اس سلسلے میں راج بھون کو یادداشت بھی پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کسانوں، مزدوروں، خواتین اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس جدوجہد میں کانگریس کا ساتھ دیں۔

آخر میں وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اعلان کیا کہ آئندہ ریاستی بجٹ میں 6000 گرام پنچایت دفاتر کو مہاتما گاندھی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔


Share: