بنگلورو، 22 جنوری (ایس او نیوز / ایجنسی)میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں اور سرکاری ذرائع کے مطابق کرناٹک کے گورنر تھاورچند گہلوٹ نے ریاستی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حال ہی میں تمل ناڈو میں بھی گورنر کے خطاب سے انکار پر شدید سیاسی تنازع کھڑا ہوا تھا، جس کے اثرات اب کرناٹک میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گورنر کے اس انکار کے پس منظر میں ریاستی حکومت اور راج بھون کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اس معاملے پر ریاست کے وزیرِ قانون و پارلیمانی امور ایچ۔کے۔پاٹل کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج شام 5:45 بجے راج بھون جا کر گورنر سے ملاقات کی اور موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے گورنر کو ارسال کردہ خطاب کے مسودے میں چند پیراگراف حذف کر کے تقریر کرنے کی تجویز گورنر کی طرف سے دی گئی تھی، تاہم ریاستی حکومت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ حکومت کا واضح مؤقف ہے کہ گورنر وہی مکمل خطاب پڑھیں جو کابینہ کی منظوری سے تیار کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر کی جانب سے ترمیم شدہ مسودہ حکومت کو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ریاستی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس 22 جنوری کو صبح 11 بجے طلب کیا گیا ہے اور آئینی روایت کے مطابق سال کے پہلے اجلاس کا آغاز گورنر کے خطاب سے ہونا لازمی ہے۔ ایسی صورت میں اگر گورنر اجلاس سے خطاب کے لیے حاضر نہیں ہوتے تو ریاست کو ایک سنگین آئینی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مجوزہ خطاب میں مرکز کی جانب سے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کے نام اور اس کے ڈھانچے میں تبدیلی، نیز اس کے خلاف ریاستی کابینہ کی منظور شدہ قرارداد جیسے نکات شامل ہیں، جو مرکزی حکومت کے لیے سیاسی طور پر ناگوار ہو سکتے ہیں۔ انہی وجوہات کے سبب گورنر کی جانب سے خطاب سے گریز کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
ادھر حکمراں کانگریس اور اپوزیشن بی جے پی–جے ڈی (ایس) اتحاد کے درمیان آنے والے اجلاس میں سخت سیاسی تصادم کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ریاست میں پیدا ہونے والی اس غیر معمولی صورتحال نے سیاسی حلقوں میں بے چینی اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
اب سب کی نظریں 22 جنوری کے اسمبلی اجلاس پر مرکوز ہیں کہ آیا گورنر مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے یا کرناٹک واقعی ایک آئینی بحران کی طرف بڑھ جائے گا۔