ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / یومِ جمہوریہ تقریب: گورنر گہلوت کا آئین، وفاقیت اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر زور

یومِ جمہوریہ تقریب: گورنر گہلوت کا آئین، وفاقیت اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر زور

Mon, 26 Jan 2026 17:56:42    S O News
یومِ جمہوریہ تقریب: گورنر گہلوت  کا آئین، وفاقیت اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر زور

بنگلورو، 26 جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی): گورنر تھاورچند گہلوت نے کہا ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کے آئین، وفاقی نظام اور جمہوری اقدار میں مضمر ہے۔ آئین ہی وہ مضبوط بنیاد ہے جس نے ملک کو سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف کی سمت میں استحکام بخشا ہے۔ وہ 77ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر مانک شاہ پریڈ گراؤنڈ میں منعقدہ ریاستی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے ریاست کے عوام کو یومِ جمہوریہ کی دلی مبارکباد پیش کی۔

گورنر نے کہا کہ 26 جنوری ہندوستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن ہے، جب صدیوں پر محیط شاہی نظام اور نوآبادیاتی حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور عوامی حاکمیت پر مبنی جمہوری نظام کو آئینی شکل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس دن نافذ ہونے والے آئین نے ذات، مذہب اور طبقاتی تفریق کو مسترد کرتے ہوئے تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کیے۔

گورنر گہلوت نے آزادی کی جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور مجاہدینِ آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بزرگوں کی جدوجہد کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

بابا صاحب ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ سیاسی جمہوریت اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب وہ سماجی جمہوریت میں تبدیل ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آزادی، مساوات اور اخوت کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ ان میں سے کسی ایک کی عدم موجودگی جمہوریت کو کمزور کر دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرناٹک حکومت آئین میں مذکور بنیادی اقدار کو ترجیح دے رہی ہے۔ ریاست میں پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے، علاقائی عدم مساوات کے خاتمے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے مختلف کمیشنوں اور فلاحی اسکیموں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

گورنر نے بتایا کہ ریاست عوامی فلاح پر سالانہ 1.12 لاکھ کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے، جبکہ گارنٹی اسکیموں کے تحت اب تک 1.13 لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی جا چکی ہے۔ ان اقدامات سے عوام کی خریداری کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے اور خواتین معاشی طور پر مستحکم ہو رہی ہیں۔

خواتین کی فلاح و بہبود کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست نے انقلابی اقدامات کیے ہیں، جن میں خواتین مزدوروں کو سالانہ 12 دن کی تنخواہ کے ساتھ ماہواری رخصت بھی شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنگلورو خواتین کے تحفظ کے معاملے میں ملک کے محفوظ ترین شہروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ کرناٹک ملک کا ایک بڑا تعلیمی مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں لاکھوں طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں ایل کے جی اور یو کے جی کی شروعات، رہائشی اسکولوں اور طلبہ ہاسٹلز کی توسیع جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں پرائمری ہیلتھ سینٹرز، میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت گھر گھر پہنچ کر طبی جانچ، غذائی قلت کے خاتمے اور ملاوٹ کے خلاف سخت اقدامات کر رہا ہے۔

قانون و انتظام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ریاست میں امن و امان بہتر ہے، جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈیا جسٹس رپورٹ 2025 کے مطابق کرناٹک انصاف کی فراہمی میں ملک میں پہلے نمبر پر ہے۔

گورنر نے زور دے کر کہا کہ آئین ہند نے ہندوستان کو ریاستوں کا وفاق قرار دیا ہے، اور طاقت کی یہ تقسیم ملک کی وحدت اور تنوع دونوں کو مضبوط کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ریاستوں کے ذریعے ہی مضبوط ہندوستان کی تعمیر ممکن ہے، اور وفاقی نظام کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

بابا صاحب امبیڈکر کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ آئین کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، اس پر عمل کرنے والے اگر بددیانت ہوں تو نتائج منفی ہوں گے۔ لہٰذا عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی روح کو سمجھنے والے نمائندوں کا انتخاب کریں اور جمہوری نظام میں مسلسل سوال و مکالمہ جاری رکھیں۔

آخر میں گورنر تھاورچند گہلوت نے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی جمہوری اقدار، اداروں کی فعالیت اور آئینی وابستگی میں ہے۔ انہوں نے آئین سازوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایک مضبوط، ہم آہنگ اور خوشحال کرناٹک اور ہندوستان کی تعمیر کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھیں۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ سدارامیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، چیف وہپ سلیم احمد، چیف سکریٹری شالنی رجنیش اور ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایم اے سلیم سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔ گورنر نے پریڈ کی سلامی بھی لی۔


Share: