ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں دواؤں کے معیار پر زیرو ٹالرنس، ہر شہری کو معیاری دوا کی فراہمی ریاست کی ترجیح:دنیش گنڈو راؤ

کرناٹک میں دواؤں کے معیار پر زیرو ٹالرنس، ہر شہری کو معیاری دوا کی فراہمی ریاست کی ترجیح:دنیش گنڈو راؤ

Mon, 24 Nov 2025 16:53:41    S O News
کرناٹک میں دواؤں کے معیار پر زیرو ٹالرنس، ہر شہری کو معیاری دوا کی فراہمی ریاست کی ترجیح:دنیش گنڈو راؤ

بنگلورو  ، 24/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیرِ صحت  دنیش گنڈو راؤ نے کہا ہے کہ ریاست کے ہر شہری کو محفوظ، مؤثر اور معیاری دوا فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس حوالے سے ناقص ادویات کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے ناقص دوا سے ہونے والی ایک بھی موت کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’جان بچانے والی دوا میں غلطی ایک عدد نہیں، ایک انسانی جان ہے‘‘۔

وہ انڈین فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن، کرناٹک ڈرگ اینڈ فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ حکومتِ کرناٹک کی سرپرستی میں منعقدہ ڈرگ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ’’ریگولیٹری چیْنجز اور سالڈ اورل ڈوزیج‘‘ پر ایک روزہ تکنیکی ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیر صحت نے کہا کہ حکومت نے اہم اقدامات نافذ کیے ہیں تاکہ ہندوستان کی ادویہ سازی عالمی معیار سے ہم آہنگ ہو سکے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اصلاحات محض ضابطہ بندی نہیں بلکہ ہندوستان کی فارما انڈسٹری کی ساکھ اور مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کا مقصد  اعلیٰ اور مضبوط کوالٹی سسٹمز کا قیام ، جدید تکنیک، ٹریس ایبلٹی اور ڈیجیٹل ڈاکیومینٹیشن ،عملے کی بہتر تربیت، ماحولیاتی تحفظ اور جراثیم سے پاک ماحول، ہر سطح پر شفافیت اور احتساب ہے ۔ انہوں نے فارماسیوٹیکل صنعت سے اپیل کی کہ وہ اس تبدیلی کو بوجھ کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ بھروسہ اور عالمی مسابقت میں بڑھوتری کے موقع کے طور پر قبول کریں۔حکومت وعدہ کرتی ہے کہ ہینڈ ہولڈنگ، ٹیکنیکل سیشنز اور تربیتی ورکشاپس وقتاً فوقتاً جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ بازار میں ناقص دوا کا پایا جانا قومی بدنامی اور عوامی اعتماد کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے حکومت نے اقدامات تیز کر دیے ہیں، جن میں رسک بیسڈ انسپکشن ،اچانک آڈٹ، مارکیٹ سرویلنس ،سرکاری لیبارٹریوں کی ٹیسٹنگ صلاحیت میں اضافہ ،ناقص دوا پر لائسنس معطلی تک سخت ایکشن شامل ہیں ۔

وزیر صحت نے کہا کہ: ’’دواؤں کے معاملے میں امیر، غریب اور متوسط کا فرق نہیں ہونا چاہیے۔ ایک غلط دوا ایک غلط موت ہے، خواہ تعداد ایک ہی کیوں نہ ہو‘‘۔انہوں نے فارما صنعت سے مطالبہ کیا کہ وہ کوالٹی ایشورنس کو مضبوط بنائیں ،جدید مشینری اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں ،تربیت یافتہ اسٹاف تیار کریں ،سیلف آڈٹ اور شفاف رپورٹنگ کو معمول بنائیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی فارما انڈسٹری دنیا کی قیادت کر سکتی ہے، بشرطیکہ معیار سے کبھی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ ورکشاپ معیاری، محفوظ اور عالمی سطح کی بہترین دوا کی فراہمی کے مشن کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

ورکشاپ میں دوا ساز اداروں کے ماہرین، صنعتکار، تکنیکی ماہرین اور مختلف تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔


Share: