بنگلورو ، 23/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر برائے مالگزاری کرشنا بائرے گوڑا نے اپوزیشن رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ غریب عوام کو دی جانے والی سبسڈی کو حقیر سمجھنے اور اسے مجرمانہ رنگ دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی نہ صرف سماجی انصاف کا ذریعہ ہے بلکہ معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
وہ ریاستی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران اظہارِ خیال کر رہے تھے، جہاں انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی وی سنیل کمار کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں بھی غریبوں کو دی جانے والی امداد کو کم تر سمجھا جاتا ہے، لیکن گزشتہ ڈیڑھ سو برس کی معاشی فکر کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کمزور طبقات کو سہارا دے کر ہی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کے دو بنیادی پہلو ہوتے ہیں۔ ایک پیداوار کے شعبے کو فروغ دینا اور دوسرا بازار میں طلب کو بڑھانا۔ ان کے مطابق اگر عوام کی خریداری کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے تو بازار میں طلب پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں پیداوار کا شعبہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ اگر کسی شخص کو ایک روپیہ دیا جائے تو وہ رقم بازار میں کئی بار گردش کرتی ہے اور اس طرح معیشت میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر طلب ہی موجود نہ ہو تو سرمایہ کاری کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غریب طبقے کو دی جانے والی سبسڈی بینکوں میں جمع نہیں ہوتی بلکہ براہِ راست بازار میں واپس آتی ہے، جس سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے۔ انہوں نے معروف ماہرِ معاشیات جان مینارڈ کینیس کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک نے اسی اصول کو اپناتے ہوئے معاشی پسماندگی سے نکل کر ترقی کی راہ اختیار کی ہے۔
مسٹر کرشنا بائرےگوڑا نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک ریاست فی کس آمدنی اور محصولی وصولی کے میدان میں ملک میں نمایاں مقام رکھتی ہے، اور اس کامیابی میں عوامی فلاحی منصوبوں اور سبسڈی کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ٹیکس نظام میں تبدیلیوں کے باوجود ریاست کی آمدنی میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی فلاحی اقدامات معیشت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ سبسڈی کو منفی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اسے معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔