ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک حکومت بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو منظم کرنے پر غور، ڈیجیٹل ڈی ٹاکس پروگرام کا آغاز

کرناٹک حکومت بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو منظم کرنے پر غور، ڈیجیٹل ڈی ٹاکس پروگرام کا آغاز

Sat, 31 Jan 2026 11:50:15    S O News

بنگلورو، 31 جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) ریاستِ کرناٹک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو منظم اور محدود کرنے کے لیے حکومت سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ یہ بات وزیرِ اطلاعاتی ٹکنالوجی و بایوٹکنالوجی پریانک کھرگے نے قانون ساز اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہی۔

ریاستی اسمبلی میں گورنر کے خطبے پر اظہارِ تشکر کی بحث کے دوران رکنِ اسمبلی سریش کمار کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بچوں کا سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ انحصار ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس پر حکومت پہلے ہی مشاورت کا عمل شروع کر چکی ہے۔

پریانک کھرگے کے مطابق ریاست میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق مختلف پہلوؤں پر ماہرین کے ساتھ گفتگو کی جا رہی ہے، تاکہ بچوں کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمۂ انفارمیشن ٹکنالوجی نے میٹا (Meta) کے تعاون سے ’’ڈیجیٹل ڈی ٹاکس‘‘ پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس میں تقریباً تین لاکھ طلبہ اور ایک لاکھ اساتذہ کی شمولیت متوقع ہے۔ اس پروگرام کا مقصد بچوں اور تعلیمی عملے میں ڈیجیٹل شعور پیدا کرنا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف کرناٹک تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس پر تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ فن لینڈ نے اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے ہیں، جبکہ انگلینڈ میں بھی غور و فکر جاری ہے۔ آسٹریلیا نے حال ہی میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔

اس سے قبل رکنِ اسمبلی سریش کمار نے کہا کہ آسٹریلیا کے فیصلے نے اس موضوع کی سنگینی کو واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مرکزی حکومت کی حالیہ اقتصادی سروے رپورٹ میں بھی بچوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور ان کے ذہنی و سماجی نقصانات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب اور متوازن پالیسی تیار کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ بچوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ڈیجیٹل دنیا کے فوائد کو محفوظ طریقے سے بروئے کار لایا جا سکے۔


Share: