بنگلورو ، 22/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاست میں مکئی کی قیمتوں میں اچانک اور غیرمعمولی کمی کے پس منظر میں آج وزیرِاعلی کی میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں مکئی کی کم قیمتوں کے اسباب، خریداری میں تاخیر اور کسانوں کو درپیش مشکلات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ریاست اور ملک میں مکئی کی پیداوار اس سال نمایاں طور پر بڑھی ہے، لیکن اس کے باوجود مرکزی حکومت نے 70 لاکھ میٹرک ٹن مکئی کی درآمد کی ہے، جس کے نتیجے میں کسانوں پر بھاری معاشی بوجھ پڑا ہے اور مارکیٹ میں قیمتیں نیچے آگئی ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ ایندھن (ایتھینال) کی تیاری کیلئے مرکز نے ریاست کو انتہائی کم کوٹہ فراہم کیا ہے، جس کی وجہ سے ڈسٹیلیریز مکئی کی خریداری میں دلچسپی نہیں دکھا رہیں ۔نافَیڈ اور این سی سی ایف ، جو مرکزی نوڈل ایجنسیاں ہیں، کو معاون قیمت اسکیم کے تحت خریداری شروع کرنی تھی، مگر تاحال خریداری کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔ڈسٹیلیریوں نے پہلے ہی کم قیمت کے وقت بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے، اس لیے اب وہ خریداری کے لیے آگے نہیں آ رہیں۔
اجلاس میں یہ عمل قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔اجلاس میں تجاویز پیش کی گئی کہ مکئی کی درآمدات پر فوری پابندی لگا کر قیمتوں میں استحکام پیدا کیا جائے۔ نوڈل ایجنسیوں سے مطالبہ کہ کم از کم 8 لاکھ ٹن مکئی کی فوری خریداری کی جائے۔خریداری مراکز فوری طور پر فعال کیے جائیں اور ڈسٹیلیریز کو خریداری کے لیے پابند بنایا جائے۔
ریاستی وزیرِ زراعت چلوورایاسوامی نے بتایا کہ مرکز کے وزیرِ زراعت سے ملاقات کرکے فوری مداخلت اور تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔وزیرِاعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ’’مکئی کی قیمت میں زبردست گراوٹ سے پریشان کسانوں کی مدد کے لیے حکومت ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔‘‘
انہوں نے اعلان کیا کہ مرکز کو خط لکھ کر 70 لاکھ میٹرک ٹن درآمدات پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ایتھینال کی تیاری کے لیے فوری مکئی خریدنے کے سلسلے میں ریاست کی بڑی ڈسٹیلیریز کو طلب کر کے میٹنگ کی جائے۔پولٹری صنعت سے بھی بات چیت کر کے مکئی خریداری بڑھانے کی درخواست کی جائے۔