ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بینگلورو کُوگِلو کراس فقیر بستی: مکانات کے اعلان سے بی جے پی بوکھلا گئی، اپوزیشن لیڈر کامتاثرین سے دستاویزات طلب کر کے سوالات

بینگلورو کُوگِلو کراس فقیر بستی: مکانات کے اعلان سے بی جے پی بوکھلا گئی، اپوزیشن لیڈر کامتاثرین سے دستاویزات طلب کر کے سوالات

Thu, 01 Jan 2026 13:50:54    S O News
بینگلورو کُوگِلو کراس فقیر بستی: مکانات کے اعلان سے بی جے پی بوکھلا گئی، اپوزیشن لیڈر کامتاثرین سے دستاویزات طلب کر کے سوالات

بینگلورو، یکم جنوری (ایس او نیوز) بینگلورو کے کُوگِلو کراس فقیر بستی میں انہدامی کارروائی کے بعد کانگریس حکومت کی جانب سے غریب اور بے گھر خاندانوں کو متبادل مقام پر مکانات تعمیر کر کے دینے کے اعلان نے ریاستی بھارتیہ جنتا پارٹی کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔

مبینہ طور پر ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز سیاست کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والی بی جے پی نے جیسے ہی اس بستی کے غریب مکینوں کے لیے مکانات کے اعلان کو دیکھا، اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے حکومت پر شدید تنقید شروع کر دی۔

اسی تناظر میں اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے بی جے پی قائدین کے ہمراہ کُوگِلو کراس میں واقع متنازعہ فقیر بستی کا دورہ کیا، جہاں حال ہی میں تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں آئی تھی۔ دورے کے دوران انہوں نے بستی کے مکینوں سے بات چیت کی، شناختی کارڈ، راشن کارڈ اور دیگر دستاویزات طلب کیں اور بستی کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے۔

آر اشوک نے مقامی خواتین سے پوچھا کہ وہ کتنے عرصے سے یہاں مقیم ہیں، انہیں یہاں کون لایا اور آیا انہیں سرکاری طور پر پلاٹ یا زمین الاٹ کی گئی تھی یا نہیں۔ ایک خاتون نے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ 25 برسوں سے یہاں رہ رہی ہیں، تاہم آر اشوک نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گوگل میپس کے مطابق ایک سال قبل تک یہاں کسی قسم کی رہائشی تعمیرات موجود نہیں تھیں اور بیشتر مکینوں کے پاس درست شناختی دستاویزات نہیں ہیں۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں اپوزیشن لیڈر نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر غیر قانونی طور پر مکانات تعمیر کر لینا ہی رہائش کا معیار بن جائے تو حکومت آئندہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کس بنیاد پر کرے گی؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنگلورو میں 40 سے زائد مقامات پر 150 سے 200 ایکڑ سرکاری زمین سے تجاوزات ہٹائی جا چکی ہیں اور سوال اٹھایا کہ کیا حکومت ان سب کو بھی مکانات فراہم کرے گی؟

آر اشوک نے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دیگر تجاوزات ہٹانے کے مقامات پر وہ نظر نہیں آئے، لیکن کُوگِلو کراس میں ذاتی وجوہات کی بنا پر فوراً پہنچ گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح بنگلہ دیش سے شروع ہو کر مغربی بنگال میں حالات بگڑے، اسی طرح کی صورتحال مستقبل میں کرناٹک میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے دعویٰ کیا کہ کُوگِلو کراس فقیر بستی آہستہ آہستہ غیر سماجی عناصر اور سلیپر سیلز کا مرکز بن سکتی ہے، اس لیے یہاں رہنے والوں کی شہریت کی جانچ ضروری ہے اور پورے معاملے کی تحقیقات این آئی اے کے حوالے کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے افسران کو متنبہ کیا کہ سیاسی دباؤ میں آ کر جعلی دستاویزات تیار نہ کی جائیں، ورنہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آر اشوک نے چیف منسٹر سدارامیاہ کی قیادت والی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے کنڑ عوام کو دھوکہ دے کر ریاست کے مختلف حصوں میں ’’منی بنگلہ دیش‘‘ آباد کیے ہیں۔ ان کے مطابق بی جے پی کے ابتدائی سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بستی کے کئی مکین آندھرا پردیش کے پینوگونڈا جیسے علاقوں سے آئے ہیں۔

انہوں نے ایک خاتون کے 26 برس سے یہاں رہنے کے دعوے کو بھی مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دو سال کی عمر میں یہاں آئی تھیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی کم عمر میں وہ یہاں تک کیسے پہنچیں۔ ان کے مطابق علاقے میں نہ زراعت کے امکانات ہیں اور نہ ہی روزگار کے واضح ذرائع، اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگوں کا یہاں آباد ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ وسیِم نامی ایک روڈی شیٹر نے اپنے نام پر اس بستی کو بسایا اور وہ کانگریس کے لیے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر ضمیر احمد کے قریبی افسر سرفراز خان نے حکام پر دباؤ ڈال کر سبھی مکینوں کو مقامی باشندہ درج کرنے اور کسی سے سوال نہ کرنے کی ہدایت دی۔

آبادی کے اعداد و شمار میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے آر اشوک نے کہا کہ ابتدا میں میڈیا رپورٹس میں 160 مکینوں کا ذکر تھا، بعد میں تعداد 280 بتائی گئی اور اب کہا جا رہا ہے کہ یہ 400 تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایک سال قبل گوگل میپس میں یہ علاقہ مکمل طور پر سرسبز دکھائی دیتا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر تعمیرات حالیہ ایک سال کے دوران ہی ہوئی ہیں۔

غیر قانونی بجلی کنکشن پر الزامات

آر اشوک نے الزام لگایا کہ ریاست میں جہاں چار لاکھ سے زائد افراد آج بھی بجلی سے محروم ہیں، وہیں فقیر بستی میں بغیر میٹر کے غیر قانونی بجلی کنکشن فراہم کیے گئے ہیں اور مہنگی کیبلز نصب کی گئی ہیں۔ انہوں نے بیسکام کے افسران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر یہاں کسی آگ کے حادثے میں جانی نقصان ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومت اور متعلقہ افسران پر عائد ہوگی۔

آخر میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ریاست میں سیلاب سے متاثر 13,999 خاندان آج بھی رہائش سے محروم ہیں، ہزاروں اسکولوں کی چھتیں اڑ چکی ہیں لیکن ان کی مرمت نہیں کی گئی، جبکہ دوسری جانب انہدامی کارروائی کے بعد بے گھر ہونے والوں کو مکانات دینے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے علاقوں کو نظرانداز کرنا مستقبل میں سنگین سماجی اور سیکورٹی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔


Share: