ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / کویت سے اپریل میں خام تیل کی برآمد مکمل طور پر بند، تین دہائیوں میں پہلی بار ایسا انکشاف: رپورٹ

کویت سے اپریل میں خام تیل کی برآمد مکمل طور پر بند، تین دہائیوں میں پہلی بار ایسا انکشاف: رپورٹ

Sun, 03 May 2026 18:53:20    S O News
کویت سے اپریل میں خام تیل کی برآمد مکمل طور پر بند، تین دہائیوں میں پہلی بار ایسا انکشاف: رپورٹ

ڈیلاویئر، 3/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)ایران۔امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے سبب مشرقی ایشیا میں پیدا ہوئی کشیدگی نے تقریباً ہر شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے جبکہ موجودہ صورتحال سے تیل کی صنعت پر زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس دوران ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کویت نے اپریل میں تیل برآمد نہیں کیا۔ 3 دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ کویت نے پورے ایک ماہ تک تیل برآمد نہیں کیا۔ اس سے پہلے خلیجی جنگ کے دوران ایسا ہوا تھا۔ ’ٹینکر ٹریکر‘ ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے۔ اس کی وجہ مغربی ایشیا کا بحران بتایا گیا ہے جس نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس سے تیل برآمد کرنے والے ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔

تیل کی عالمی ترسیل پر نظر رکھنے والے ’ٹینکر ٹریکر‘ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’’بریکنگ نیوز: کویت نے اپریل 2026 کے دوران ایک بھی بیرل تیل برآمد نہیں کیا۔ خلیجی جنگ کے خاتمے کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے۔‘‘ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کویت میں تیل کی پیداوار جاری ہے تاہم خام تیل کی برآمدات تقریباً مکمل طور پر رُک چکی ہیں۔ کویت نکالے جانے والے تیل میں سے کچھ حصہ ذخیرہ کر رہا ہے اور کچھ حصے کو پیٹرولیم مصنوعات بنانے کے لیے صاف کر رہا ہے۔

دراصل موجودہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ طور پر ایران پر کئے گئے حملے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا اور تیل سپلائی کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو ’دشمن ممالک‘ کے لیے بند کردیا تھا جس کے بعد تیل سپلائی تقریباً پوری طرح ٹھپ ہوگئی تھی اور چوری چھپے نکلنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔

دریں اثنا ایران کی آئی آر جی سی نیوی کمانڈ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں ایران کے ساحل کے قریب پانیوں پر نئے اصول نافذ کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب اریبین گلف اور آبنائے ہرمز میں ایران کی ساحلی پٹی کے تقریباً 2,000 کلومیٹر (1,243 میل) پر کنٹرول رکھے گی اور اس پانی کو ایران کے پیارے لوگوں کے لیے فخر اور طاقت اور خطے کے لیے سلامتی اور خوشحالی کا ذریعہ بنائے گی۔


Share: