ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بیلگاوی ڈپٹی کمشنر کے خلاف مہاراشٹرا ایم پی مراعات شکنی کی شکایت - کرناٹکا کے اراکین پارلیمان نے کی ڈی سی کی حمایت

بیلگاوی ڈپٹی کمشنر کے خلاف مہاراشٹرا ایم پی مراعات شکنی کی شکایت - کرناٹکا کے اراکین پارلیمان نے کی ڈی سی کی حمایت

Mon, 29 Dec 2025 12:38:27    S O News
بیلگاوی ڈپٹی کمشنر کے خلاف مہاراشٹرا ایم پی مراعات شکنی کی شکایت - کرناٹکا کے اراکین پارلیمان نے کی ڈی سی کی حمایت

بیلگاوی،  29 / دسمبر (ایس او نیوز) مہاراشٹرا کے رکن پارلیمان دھئیریا مانے نے ڈپٹی کمشنر محمد روشن کی طرف سے امسال یکم نومبر کو  بیلگاوی میں داخلے پر روک لگانے کے معاملے میں مراعات شکنی کی جو شکایت درج کی ہے اس پس منظر میں کرناٹکا کے تمام اراکین پارلیمان نے پارٹی وابستگی سے بالا تر ہو کر ڈپٹی کمشنر محمد روشن کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے ۔
    
خیال رہے کہ 1956 میں لسانی بنیاد پر کی گئی ریاست کی تنظیمِ نو کے تحت بیلگاوی کو کرناٹکا میں شامل کیے جانے کی مخالفت میں مہاراشٹرا ایکی کرن سمیتی اور دیگر  مہاراشٹرا حامی گروہ ہر سال یکم نومبر کو 'یوم سیاہ' مناتے ہیں ۔ جس سے اکثر و بیشتر کنڑا حامی اور مہاراشٹرا حامی گرہوں میں اشتعال اور تصادم کے واقعات پیش آتے ہیں اور امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے ۔ 
    
امسال یکم نومبر کو حساس حالات نظر امن و امان کی بحالی کے مقصد سے بیلگاوی کے ڈپٹی کمشنر محمد روشن نے مہاراشٹرا کے رکن پارلیمان مانے کے بیلگاوی میں داخلے پر روک لگا دی تھی ۔ جسے ایک رکن پارلیمان کے ساتھ مراعات شکنی کا معاملہ کرتے ہوئے مانے نے اسپیکر کے پاس شکایت داخل کی ہے ۔ 
    
اپنی شکایت میں مانے کا کہنا ہے کہ ایک رکن پارلیمان کو پورے ملک میں آزادانہ طور پر سفر کرنے کا دستوری حق حاصل ہے ۔ مانے کا الزام ہے کہ مہاراشٹرا حامیوں کی طرف سے یوم سیاہ منانے کے موقع پر ان کے بیلگاوی میں داخلے پر روک لگاتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے ان کے اس حق کی خلاف ورزی کی ہے ۔ 
    
ریاستی وزیر ستیش جارکیہولّی نے بتایا کہ کرناٹکا کے تمام 28 اراکین پارلیمان نے اسپیکر اوم برلا کو ڈپٹی کمشنر کی حمایت میں ایک مشترکہ تحریر دینے اور رکن پارلیمان مانے کی شکایت کو قبول نہ کرنے کی مانگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ " ڈی سی نے کوئی غلطی نہیں کی ہے ۔ ایم پی مانے پر روک لگانے کا مقصد صرف امن و امان بحال رکھنا تھا ۔" 
    
بی جے پی کے ایم پی جگدیش شٹر نے بتایا اس طرح کی روک لگانے سے : " مراعات شکنی کا معاملہ نہیں بنتا ہے ۔ ریاست کے تمام ارکان پارلیمان اسپیکر کے سامنے حقائق پیش کریں گے ۔" انہوں نے کہا کہ رکن پارلیمان پرہلاد جوشی کی قیادت میں ریاست کے اراکین پارلیمان اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کریں گے ۔ 
    
اس معاملے پرقانونی ماہرین کا خیال یہی ہے کہ ضلع انتظامیہ اپنے فیصلے میں حق بجانب ہے ۔  سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ موہن کٹارکی نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے جو اقدام کیا ہے وہ پوری طرح قانون کے دائرے میں ہے ۔ اس طرح کے احکام ممبر آف پارلیمنٹ کے استثنا کے بغیر ہر فرد پر لاگو ہوتے ہیں ۔ ایڈوکیٹ کٹارکی نے کہا کہ دستور کی دفعہ 105 کے تحت رکن پارلیمان کو حاصل مراعات پارلیمان کے اندر کی کارروائیوں تک ہی محدود ہوتی ہیں، اور پارلیمنٹ سے باہر سیاسی سرگرمیوں اور بالخصوص بیلگاوی جیسے حساس سرحدی علاقے میں اس اطلاق نہیں ہوتا ۔ 
    
اس صورتحال کے پس منظر میں سمجھا جاتا ہے کہ ایم پی مانے کی طرف سے داخل کردہ مراعات شکنی کی شکایت کو اسپیکر کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا ۔ 


Share: