ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاست میں لاپتہ ہونے والے لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لڑکیوں کی تعداد

ریاست میں لاپتہ ہونے والے لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لڑکیوں کی تعداد

Mon, 22 Dec 2025 17:17:09    S O News

منگلورو، 22/ دسمبر (ایس او نیوز) ریاست کرناٹکا میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لاپتہ ہونے والے لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ عشق و محبت اور انسانی اسمگلنگ اس کے اہم اسباب بتائے جاتے ہیں ۔
    
اعداد و شمار کا اہم پہلو یہ ہے کہ بینگلورو شہر، میسورو، بیلگاوی، دکشن کنڑا اور دیگر شہری علاقوں سے لاپتہ ہونے والوں میں نوعمر بچوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ 
    
سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ نو عمر بچوں کے غائب ہونے کے بہت سارے اسباب ہو سکتے ہیں جس میں بھاگ جانا، ہجرت کرنا، انسانی اسمگلنگ یا تعلیمی یا سماجی دباو ہو سکتا ہے ۔     بینگلورو اربن کی چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (چھ سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے لئے) کی سابق چیرپرسن ایڈوکیٹ انجلی رامنّا نے بتایا کہ ریاست کے صدر مقام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز سے غائب ہونے والے نو عمر بچوں اور بی این ایس کی دفعہ 137(2) کے تحت درج ہونے والے معاملوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ 
    
جب ان سے پوچھا گیا کہ اس صورتحال کے اسباب کیا ہو سکتے ہیں ؟ تو ایڈوکیٹ انجلی نے کہا کہ لڑکیوں میں عشق و محبت اور منظم انسانی اسمگلنگ اور لڑکوں میں نشہ کی عادت ان کے لاپتہ ہونے کی بنیادی وجوہات ہیں ۔ جبکہ اعلیٰ متوسط طبقے (اپّر مڈل کلاس) کے بچے گھر بھاگ جانے کے معاملے میں اہم سبب تعلیمی دباو ہوتا ہے ۔ 
    
کرناٹکا اسٹیٹ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے صدر ششی دھر کوسمبے کا کہنا ہے انہوں نے ڈی جی پی کو نوعمر بچوں کے غائب ہونے کے معاملات اور اس کی روک تھا کے لئے ضروری اقدامات کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے ۔ 
    
ریاست میں گزشتہ تین سال کے عرصے میں گم ہونے والے بچوں اور ان کی بازیابی کی تفصیل کچھ اس طرح ہے :

سال 2023 :- گم شدہ لڑکے 908، بازیافتہ لڑکے 873، نایافتہ لڑکے 35، 
گم شدہ لڑکیاں 2,131، بازیافتہ لڑکیاں 2,089،  نایافتہ لڑکیاں 42،
جملہ معاملے جو سامنے آئے 3,039 ، جملہ معاملے جو حل ہوئے 2,962 ، جو معاملے حل نہیں ہوئے 77

سال 2024 :- گم شدہ لڑکے 975، بازیافتہ لڑکے 930، نایافتہ لڑکے 45، 
گم شدہ لڑکیاں 2,436، بازیافتہ لڑکیاں 2,336،  نایافتہ لڑکیاں 100،
جملہ معاملے جو سامنے آئے 3,411، جملہ معاملے حل ہوئے جو 3,266، جو معاملے حل نہیں ہوئے 145 
    
سال 2025 (25 نومبر تک):- گم شدہ لڑکے 865، بازیافتہ لڑکے 676، نایافتہ لڑکے 189، 
گم شدہ لڑکیاں 2,324، بازیافتہ لڑکیاں 1641،    نایافتہ لڑکیاں 683،
جملہ معاملے جو سامنے آئے 3,189، جملہ معاملے جو حل ہوئے 2,317، جو معاملے حل نہیں ہوئے872 

اس دوران ریاستی حکومت نے نوعمر بچوں کے غائب ہونے کے سلسلے پر روک لگانے کے لئے ایسے معاملوں میں فوری ایف آئی آر درج کرنے، گہرائی سے تفتیش کرنے اور تعلیمی اداروں میں  بیداری مہم جیسے کچھ اہم اقدامات کیے ہیں ۔

خیال رہے کہ جب ایک بچہ گم شدہ ہونے کی بات سامنے آتی ہے یا اغوا کیا جاتا ہے تو اس معاملے کو منظم جرائم کی فہرست میں رکھا جاتا ہے اور اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ کو رجوع کیا جاتا ہے  ۔ ایسے معاملات کی شکایت درج کرنے کے لئے چائلڈ لائن 1098 بھی دستیاب ہے ۔ 


Share: