نئی دہلی ، 19/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)سکریٹری برائے خارجہ وکرم مسری نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اور پی ایم مودی کے درمیان فون پر ایک نصف گھنٹے سے طویل گفتگو ہوئی، جس میں مودی نے صاف صاف وضاحت کر دی کہ ہند-پاک جنگ بندی دراصل دونوں ممالک کے براہ راست تبادلِ خیال کا نتیجہ ہے۔ اسی دوران ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں ایک بار پھر اپنی ثالثی کا دعویٰ کرتے ہوئے مودی حکومت پر تنقید کے لیے بھرپور موقع فراہم کر دیا۔ اس بیان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ، ’’مودی حکومت نے ہندی میں ایک بیان جاری کیا، جس میں نریندر مودی نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی میں ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں ہے؛ نہ ہی تجارتی مسائل نے اسے جنم دیا۔ جبکہ شام کے وقت ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ روکنے میں اپنا کردار ادا کیا۔‘‘
ٹرمپ کے اس دعویٰ نے ایک بار پھر مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اپنے بیان میں امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’ٹرمپ کہتے ہیں– مجھے پاکستان سے محبت۔ مودی ایک شاندار آدمی ہیں۔ میں نے کل رات ان سے بات کی۔ اب ہم ان کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ بھی کریں گے۔‘‘ ٹرمپ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ’’پاکستان کی طرف سے جنگ روکنے میں عاصم منیر اثردار تھے، اور ہندوستان کی طرف سے مودی نے ایسا کیا، اور میں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ روک دی۔‘‘
ٹرمپ کے مذکورہ بالا بیانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کانگریس نے اپنی پوسٹ میں پی ایم مودی کے سامنے تلخ سوال بھی رکھ دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’مودی حکومت کچھ اور کہہ رہی ہے اور ٹرمپ اپنے دعوے پر بضد ہیں۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ جنگ بندی کی پہلی جانکاری ٹرمپ کے ٹوئٹ سے ہی ہوئی تھی۔ آخر نریندر مودی کھل کر ٹرمپ کا جواب کیوں نہیں دے پا رہے ہیں؟‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں کانگریس نے طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’’دال میں کچھ کالا ہے، یا پوری دال ہی کالی ہے؟‘‘