ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / نیا عالمی نظام: طاقت کی سیاست اور “جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس” ۔۔۔۔۔۔ تحریر : جاوید جمال الدین

نیا عالمی نظام: طاقت کی سیاست اور “جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس” ۔۔۔۔۔۔ تحریر : جاوید جمال الدین

Sat, 24 Jan 2026 16:48:50    S O News
نیا عالمی نظام: طاقت کی سیاست اور “جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس”  ۔۔۔۔۔۔ تحریر : جاوید جمال الدین

سوئٹزرلینڈ کے شہر داؤس میں جنوری 2026 میں منعقد ہونے والا ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو سی ایف) اب محض معاشی سرمایہ کاری، کارپوریٹ حکمتِ عملی اور عالمی تجارت کا پلیٹ فارم نہیں رہا۔ گزشتہ چند برسوں سے یہ فورم کھلے عام عالمی سیاست، طاقت کے نئے توازن، جیو پولیٹیکل مقابلوں اور بین الاقوامی نظام کی تشکیلِ نو پر بحث کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ اس بار کے فورم میں کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کا کلیدی خطاب اس بدلتی ہوئی عالمی فضا کی سب سے واضح مثال تھا — ایک ایسا خطاب جسے کئی مبصرین نے مغربی قیادت کی طرف سے غیر معمولی ایمانداری، تلخ اعتراف اور آنے والے طوفان کی پیش گوئی قرار دیا۔

مارک کارنی نے نہایت دو ٹوک انداز میں کہا کہ دنیا تیزی سے اس “ضوابط پر مبنی عالمی نظام” (rules-based international order) سے دور ہوتی جا رہی ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد برٹن ووڈز، اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی قانون، نیٹو، عالمی مالیاتی اداروں اور کثیرالجہتی تعاون کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اب ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں طاقتور ممالک کے درمیان کھلا مقابلہ اور جارحیت بنیادی حقیقت بن چکی ہے، جبکہ اصول، قوانین، انسانی حقوق اور اخلاقی دعوے ثانوی ہو کر رہ گئے ہیں۔

ان کا سب سے یادگار جملہ — جو قدیم یونانی مؤرخ تھوسائیڈائڈز کے تاریخی اقتباس کی جدید تکرار ہے — یہ تھا: “طاقتور وہی کرتے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں، اور کمزوروں کو وہ سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے جو وہ روک نہیں سکتے۔” یہ جملہ محض نظری یا فلسفیانہ نہیں، بلکہ موجودہ زمینی حقائق کا خلاصہ ہے۔ یوکرین میں جاری جنگ، غزہ اور لبنان کے بحرانات، بحیرۂ جنوبی چین اور تائیوان کے گرد کشیدگی، امریکہ-چین تجارتی اور ٹیکنالوجی جنگ، پابندیاں، ٹیرف، کرنسی کی ہیرا پھیری اور سائبر حملے — یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی تعلقات اب اخلاقیات یا قوانین سے زیادہ خالص طاقت کے توازن پر منحصر ہو چکے ہیں۔

مارک کارنی نے اپنے خطاب میں گرین لینڈ کا معاملہ ایک مرکزی استعارے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے امریکی قیادت کی طرف سے گرین لینڈ پر دباؤ، ممکنہ معاشی پابندیاں اور جارحانہ بیانات کو “ناقابل قبول” قرار دیا اور واضح کیا کہ کنیڈا اس معاملے میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کی خودمختاری کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ کسی بھی تنازع کا حل صرف مذاکرات، احترام اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہی ممکن ہے۔

گرین لینڈ بظاہر برفیلا، کم آبادی والا جزیرہ ہے، مگر اس کی اسٹریٹیجک اہمیت اکیسویں صدی کی طاقت کی سیاست میں غیر معمولی ہے۔ قطب شمالی میں اس کا مقام، نایاب معدنیات (ریئر ارتھ ایلیمنٹس)، گیس اور تیل کے ذخائر، مستقبل کے بحری راستے (Northwest Passage) اور فوجی اڈوں کی صلاحیت اسے عالمی مقابلے کا نیا میدان بنا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات — جن میں گرین لینڈ کو “ضروری قومی مفاد” قرار دے کر اسے حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی اور فوجی طاقت کے استعمال کو بھی خارج از امکان نہیں ٹھہرایا گیا — محض سیاسی دھمکی نہیں، بلکہ عالمی نظام کے لیے ایک خطرناک پیش گوئی ہے۔

یہ موقف اقوامِ متحدہ کے چارٹر، خود ارادیت کے اصول اور حتیٰ کہ نیٹو کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہے، کیونکہ گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے اور ڈنمارک نیٹو کا بانی رکن ہے۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے سخت ردعمل، فرانس، ناروے اور یورپی یونین کی طرف سے گرین لینڈ کی خودمختاری کی حمایت اس بات کی علامت ہے کہ یورپ اسے محض علاقائی معاملہ نہیں، بلکہ پورے مغربی اتحاد اور قانونی نظام کی ساکھ کا سوال سمجھتا ہے۔

درمیانی طاقتوں کا کردار اور خاموشی کی قیمت
کارنی کے خطاب کا ایک اہم پہلو “درمیانی طاقتوں” (middle powers) کا بڑھتا ہوا کردار اور ذمہ داری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کنیڈا، آسٹریلیا، جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا، نیدرلینڈز اور اسی طرح کے ممالک اگر مشترکہ حکمتِ عملی، کثیرالجہتی سفارت کاری اور مشترکہ اقدار پر مبنی اتحاد نہ بنائیں تو وہ طاقتور بلاکس کے فیصلوں کے محض متاثرین بن کر رہ جائیں گے۔ ان کے الفاظ میں: “اگر آپ مذاکرات کی میز پر موجود نہیں ہوں گے تو فیصلے آپ کے بغیر ہوں گے — اور اکثر آپ ہی کے خلاف ہوں گے۔” یہ پیغام نہ صرف مغربی درمیانی طاقتوں بلکہ عالمی جنوب کے ممالک — بھارت، برازیل، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ — کے لیے بھی ہے۔ آج کی دنیا میں “غیر جانبداری” یا سفارتی خاموشی اکثر کمزوری سمجھی جاتی ہے، اور طاقتور ممالک اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔

کارنی کے خطاب کا سب سے گہرا اور فکری حصہ چیک دانشور اور سابق صدر وا کلاف ہیول کے مشہور مضمون The Power of the Powerless کا حوالہ تھا۔ ہیول نے آمرانہ نظاموں کی طاقت کی وضاحت کرتے ہوئے ایک سادہ سبزی فروش کی مثال دی تھی جو ہر روز اپنی دکان پر نعرہ لگاتا ہے: “دنیا کے مزدورو! ایک ہو جاؤ!” — نہ وہ خود اس پر یقین رکھتا ہے، نہ اس کے گاہک، مگر وہ یہ نعرہ لگاتا ہے تاکہ نظام سے ٹکراؤ سے بچ سکے اور معمول کی زندگی گزار سکے۔ ہیول کے مطابق یہی “جھوٹ کے اندر جینا” ہے — ایک نظام جو سچائی پر نہیں، اجتماعی منافقت اور خوف پر قائم ہوتا ہے۔

کارنی نے اسے عالمی سیاست پر منطبق کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ “ضوابط پر مبنی نظام” کی طاقت بھی اسی اجتماعی جھوٹ میں ہے — ہم سب جانتے ہیں کہ طاقتور قوانین توڑتے ہیں، مگر ہم تقریروں، قراردادوں اور بیانات میں اس جھوٹ کو دہراتے رہتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں: “اب وقت آ گیا ہے کہ یہ تختیاں اتار دی جائیں اور سچائی کا سامنا کیا جائے۔” یہ کال درمیانی طاقتوں، سول سوسائٹی اور عالمی اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے کہ وہ منافقت ترک کر کے کھل کر اصولوں کی حمایت کریں، ورنہ نظام مکمل طور پر طاقت کی سیاست میں تبدیل ہو جائے گا۔ مارک کارنی کا داؤس 2026 کا خطاب محض ایک تقریر نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ اور کال ٹو ایکشن   ہے۔ گرین لینڈ کا معاملہ، یوکرین اور غزہ کے بحرانات، بحیرۂ جنوبی چین کی کشیدگی اور بڑھتی ہوئی معاشی جنگوں سے واضح ہے کہ دنیا ایک نئے، سخت اور غیر یقینی دور میں داخل ہو چکی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا کس سمت جا رہی ہے — بلکہ یہ ہے کہ اس سمت کا تعین کون کرے گا؟ کیا قانون، کثیرالجہتی تعاون، مشترکہ اقدار اور سچائی غالب آئیں گی، یا خالص طاقت، دباؤ، خوف اور “جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس” کا اصول؟ یہ وہ تاریخی لمحہ ہے جب درمیانی طاقتیں، عالمی جنوب اور ذمہ دار شہری اگر خاموش رہے تو تاریخ انہیں موردِ الزام ٹھہرائے گی۔ اب وقت ہے کہ تختیاں اتار دی جائیں، سچائی کا سامنا کیا جائے اور ایک ایسے نظام کی تعمیر شروع کی جائے جو واقعی منصفانہ، پائیدار اور انسانیت کے لیے ہو۔ 

(اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات اور آرا مضمون نگار کے ذاتی ہیں، ادارہ ساحل آن لائن کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

 

Share: