ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / لوور میوزیم میں ہڑتال سے سیاحوں کو مایوسی، پیرس کو بھاری مالی نقصان

لوور میوزیم میں ہڑتال سے سیاحوں کو مایوسی، پیرس کو بھاری مالی نقصان

Tue, 27 Jan 2026 11:34:26    S O News
لوور میوزیم میں ہڑتال سے سیاحوں کو مایوسی، پیرس کو بھاری مالی نقصان

پیرس، 27/ جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)لوور میوزیم پیر کو دسمبر کے وسط کے بعد چوتھی مرتبہ بند رہا، کیونکہ عملے نے کام کے حالات کے خلاف جاری ہڑتال برقرار رکھی۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے اس میوزیم کے مطابق، اس طویل تعطل کے باعث اسے ایک ملین یورو سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ سی جی ٹی اور سی ایف ڈی ٹی یونینوں کے مطابق، پیر کی صبح کم از کم۳۰۰؍ ملازمین نے ایک عمومی اجلاس میں شرکت کی اور۱۵؍ دسمبر کو شروع ہونے والی ہڑتال میں توسیع کے حق میں ووٹ دیا۔ بی ایف ایم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، ملازمین عملے کی کمی اور فرانس کی وزارتِ ثقافت کے تحت کام کرنے والے دیگر ملازمین کے مقابلے میں تنخواہوں کے فرق کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

میوزیم کا کہنا ہے کہ یہ بندش اس کی تاریخ کے طویل ترین سماجی تنازعات میں سے ایک میں تازہ ترین دھچکا ہے، حالانکہ انتظامیہ اور وزارت کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ اس صنعتی کارروائی کے باعث لوور کو اب تک تین بار مکمل طور پر بند کرنا پڑا ہے، جبکہ تین دیگر مواقع پر گیلریاں جزوی طور پر کھولی گئیں۔ حتیٰ کہ جن دنوں ہڑتال کی تجدید نہیں کی گئی، تب بھی عملے کے اجلاسوں کے باعث میوزیم کے کھلنے میں تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر ہوئی، جس سے بڑی تعداد میں سیاح باہر انتظار کرتے رہے۔ ثقافت کی وزیر رشیدہ داتی نے ملازمین کے مطالبات کو ’’جائز‘‘ قرار دیا ہے۔

یونین کے نمائندے کرسچین گالانی نے کہا، ’’ہمیں سیاسی عزم کی ضرورت ہے تاکہ ان تنخواہی تفاوتوں کو بغیر تاخیر پورا کیا جا سکے، ‘‘اور مزید کہا کہ وزیر کو پیرس کی میئر کے انتخاب میں حصہ لینے کیلئے عہدہ چھوڑنے سے پہلے اقدام کرنا چاہیے۔ سی ایف ڈی ٹی یونین کی نمائندہ ویلیری بود نے کہا کہ میوزیم انتظامیہ نے اتوار کو کام کے حالات سے متعلق تجاویز کا ایک ابتدائی پیکج پیش کیا، لیکن ملازمین نے انہیں ’’’ناکافی‘‘قرار دیا۔ لوور میوزیم نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ہڑتال سے منسلک آمدنی کے نقصانات پہلے ہی ’’کم از کم ایک ملین یورو‘‘تک پہنچ چکے ہیں۔ 


Share: