بنگلورو /نئی دہلی ، 26/ نومبر (ایس اونیوز /ایجنسی)کرناٹک میں کانگریس کی داخلی سیاست ایک بار پھر گرما گئی ہے۔ ریاستی قیادت میں ممکنہ تبدیلی کے بڑھتے امکانات اور یکم دسمبر سے قبل ہائی کمان کے فیصلے کی خبروں کے درمیان، ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار کے ایک ہفتے سے جاری رابطے کی کوششوں پر راہول گاندھی نے بالآخر مختصر واٹس ایپ پیغام بھیجا"Please wait, I will call you."
پارٹی ذرائع کے مطابق شیوکمار گزشتہ کئی دنوں سے راہول گاندھی سے بات کرنا چاہتے تھے تاکہ حکومت اور پارٹی کے اندر جاری سیاسی اتار چڑھاؤ سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کر سکیں۔ذرائع کے مطابق ڈی کے شیوکمار 29 نومبر کو دہلی روانہ ہوں گے جہاں انہوں نے سونیا گاندھی سے ملاقات کا وقت طلب کیا ہے۔ سونیا گاندھی اسی روز دہلی واپس پہنچنے والی ہیں۔راہول گاندھی نے دہلی میں کرناٹک کے وزراء پریانک کھرگے اور شرت بچے گوڈا سے ملاقات کی۔ یہ ملاقاتیں ’ووٹ چوری‘ معاملے، الند میں مبینہ بے ضابطگیوں، چِلُومے این جی او کے کردار، اور حال ہی میں لانچ کیے گئے کیو ایم آئی کمپیوٹر ڈیوائس و ایس آئی آر پلیٹ فارم پر مرکوز تھیں۔ذرائع کے مطابق مشترکہ ملاقات 15 منٹ جاری رہی، جس کے بعد راہول گاندھی نے پریانک کھرگے سے الگ ملاقات کی جو تقریباً 20 منٹ تک چلی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی ریاست میں اقتدار کی منتقلی، ممکنہ کابینہ ردوبدل اور سینئر لیڈروں کے حالیہ عوامی بیانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق راہول اس بات پر ناراض ہیں کہ وزیراعلیٰ سدارامیا نے علناً یہ کہہ دیا تھا کہ کوئی پاور شیئرنگ فارمولہ موجود نہیں اور وہ اپنی پوری پانچ سالہ معیاد پوری کریں گے۔بتایا جاتا ہے کہ راہول نے کہا:"انہیں عوامی فورم پر ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں۔ میں دونوں سے بات کروں گا۔ حالات کو مزید نہ بگڑنے دیا جائے۔"
پریانک کھرگے کے بنگلورو پہنچتے ہی چیف منسٹر آفس نے انہیں شکتی بھون طلب کیا جہاں انہوں نے سدارامیا کو بریف کیا۔ بعد ازاں وہ شیوکمار کی سرکاری رہائش پہنچے۔ پارٹی حلقوں میں اس ملاقات کے تسلسل کو شیوکمار کے لیے مثبت اور وزیراعلیٰ کے لیے منفی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ہائی کمان اس بات پر غور کر رہا ہے کہ اگر ڈی کے شیوکمار کو وزیراعلیٰ بنایا جائے تو مختلف سماجی طبقات میں عدم اطمینان سے بچنے کے لیے ایک ’بیلنسنگ فارمولہ‘ اپنایا جائے۔اس سلسلے میں کے پی سی سی صدر کا عہدہ ،ایک ڈپٹی چیف منسٹر کا منصب او بی سی، ایس سی/ایس ٹی اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کو دینے کی تجویز زیر غور ہے۔پارٹی اعلیٰ قیادت چاہتی ہے کہ قیادت کی تبدیلی اگر ہو بھی، تو کانگریس کا بنیادی ووٹ بینک کسی بھی طرح تقسیم نہ ہونے پائے۔