بنگلورو، 18 جنوری (ایس او نیوز / ایجنسی)وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ اگر قانون کی حفاظت پر مامور اہلکار ہی جرائم میں ملوث پائے جائیں تو یہ نہ صرف ناقابلِ معافی جرم ہے بلکہ ریاستی حکومت اور پولیس محکمہ دونوں کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 88 فوجداری مقدمات میں پولیس اہلکار خود ملزم کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وہ پولیس افسران کی سالانہ کانفرنس کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بعض پولیس تھانے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، تاہم کچھ مقامات پر فرائض کی انجام دہی میں سنگین کوتاہیاں سامنے آ رہی ہیں، جن کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئینِ ہند ہر شہری کو مساوی تحفظ اور انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور قانون سب کے لیے برابر ہے، خواہ مجرم بااثر ہو یا کمزور۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، کمزور طبقات اور مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی صورت میں طاقتور عناصر کے دباؤ میں آ کر کام نہیں کیا جانا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر تحصیلدار اور پولیس انسپکٹر ایمانداری سے فرائض انجام دیں تو تعلقہ میں امن و امان قائم رہتا ہے، اسی طرح ضلع میں ڈپٹی کمشنر، ایس پی اور سی ای او کی بہتر کارکردگی سے عوام سکون کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ تاہم چند پولیس تھانوں میں افسران کی لاپروائی کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران قتل، ڈکیتی، لوٹ مار اور رہزنی جیسے سنگین جرائم میں کمی آئی ہے، لیکن سائبر جرائم اور منشیات سے متعلق سرگرمیوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جن پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اعتراف کیا کہ ریاست میں فوجداری مقدمات میں سزا کی شرح (کنوکشن ریٹ) اب بھی کم ہے، تاہم درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے خلاف مظالم سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح گزشتہ سال کے 3 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہو گئی ہے، جسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، لیکن ان میں نمایاں کمی ضرور لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے جرائم میں ملوث ہونا نہایت سنگین معاملہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ اگر پولیس بروقت چوکسی اختیار کرتی تو اے ٹی ایم ڈکیتی، بلاری میں بینر تنازعہ اور چنا سوامی اسٹیڈیم میں پیش آئے بھگدڑ جیسے واقعات کو روکا جا سکتا تھا اور قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
جیلوں میں بدانتظامی اور منشیات کے نیٹ ورک میں کسی بھی قسم کی غفلت کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت منشیات کے خلاف مزید سخت قوانین نافذ کرنے کے لیے آئندہ اجلاس میں نیا قانون یا ترمیم لانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے سائبر جرائم پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر بھی زور دیا۔
وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ریاست کی ترقی اور امن و امان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بہتر قانون و انتظام کے بغیر سرمایہ کاری اور ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہر شہری کو تحفظ اور انصاف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
منشیات کے خلاف کارروائی پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ ڈرگس کی اسمگلنگ میں ملوث غیر ملکیوں کو ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ملک میں رہنے کی اجازت نہ دی جائے، بلکہ بلا کسی مصلحت کے انہیں ان کے وطن واپس بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سپلائی چین کو توڑے بغیر منشیات کے کاروبار پر قابو پانا ممکن نہیں۔
بلاری واقعہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ معاملہ سی آئی ڈی کے سپرد کیا گیا ہے اور حساس علاقے میں موجود نہ رہنے پر ضلع کے پولیس سربراہ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
کانگریس لیڈر راجیو گوڑا سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سدلگٹہ کے میونسپل کمشنر کی توہین کے معاملے میں وہ مفرور ہیں اور انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔
اس موقع پر وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور، ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایم اے سلیم اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران بھی موجود تھے۔