ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ڈوکلام معاملہ پر راہل گاندھی کے بیان سے لوک سبھا میں ہنگامہ، کارروائی ملتوی

ڈوکلام معاملہ پر راہل گاندھی کے بیان سے لوک سبھا میں ہنگامہ، کارروائی ملتوی

Mon, 02 Feb 2026 17:32:28    S O News

نئی دہلی، 2/ فروری (ایس او نیوز /ایجنسی) پارلیمنٹ میں بجٹ اجلاس جاری ہے اور آج لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران اس وقت زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا جب قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ڈوکلام میں چینی دراندازی کا مسئلہ اٹھایا۔ راہل گاندھی جیسے ہی اس موضوع پر بات کرنے لگے، ایوان کا ماحول گرم ہو گیا اور حکمراں جماعت کے اراکین نے سخت اعتراض شروع کر دیا۔

اس دوران وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امت شاہ بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور راہل گاندھی کے دعوؤں کی مخالفت کی۔ ہنگامہ اس قدر بڑھا کہ تقریباً 45 منٹ تک کارروائی متاثر رہی اور بالآخر لوک سبھا کی کارروائی ملتوی کرنا پڑی۔

اس معاملہ پر کانگریس نے سخت ردعمل جاری کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ بی جے پی دہشت گردی سے لڑنے کی بات کرتی ہے مگر ایک اقتباس سے خوف زدہ ہو جاتی ہے۔ کانگریس کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ جنرل نرونے کی کتاب میں ایسا کیا لکھا ہے جس سے مودی حکومت اتنی پریشان ہو گئی کہ راہل گاندھی کو اسے پڑھنے تک نہیں دیا گیا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف کو اپنی بات رکھنے سے روکنا جمہوری روایت کے خلاف ہے اور حکومت ایک بار پھر غیر آرام دہ سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ راہل گاندھی نے سابق فوجی سربراہ منوج مکند نرونے کی کتاب ’فور اسٹار آف ڈیسٹنی‘ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی بات رکھنی شروع کی لیکن وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اعتراض ظاہر کیا کہ وہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے لہذا اس کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس پر راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے اس کتاب کو شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے، تاہم انہوں نے ایک میگزین کے کوٹ (اقتباس) کا حوالہ دیا اور کہا کہ ڈوکلام سے متعلق اہم حقائق کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سچ کو سامنے آنے سے روکا جا رہا ہے۔

راجناتھ سنگھ نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے سنگین الزامات بغیر مستند ثبوت کے نہیں لگائے جا سکتے اور پھر واضح کیا کہ مذکورہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے۔ بعد ازاں امت شاہ نے بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جو کتاب شائع ہی نہیں ہوئی، اس کا حوالہ ایوان میں کیسے دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ میگزین کی کتاب میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے بی جے پی رکنِ پارلیمان تیجسوی سوریہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن کی حب الوطنی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا، جبکہ راہل گاندھی نے اس کے برعکس الزام لگایا تھا۔

اس پورے تنازعہ کے دوران لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے واضح کیا کہ پارلیمانی قواعد کے تحت کسی بھی غیر شائع شدہ کتاب یا اخبار کا حوالہ ایوان میں نہیں دیا جا سکتا، بلکہ شائع شدہ کتاب کو پڑھ کر یا اس کا اقتباس پیش کرنا بھی قواعد کے خلاف ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ اس بارے میں پہلے ہی تمام اراکین کو ہدایات دی جا چکی ہیں۔


Share: