ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / غازی پور سانحہ پر کانگریس کا سخت حملہ، راہل-پرینکا نے یوگی و مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا

غازی پور سانحہ پر کانگریس کا سخت حملہ، راہل-پرینکا نے یوگی و مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا

Sat, 25 Apr 2026 18:40:43    S O News

نئی دہلی ، 25/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) اتر پردیش کے غازی پور میں وشوکرما برادری کی ایک بیٹی کے ساتھ ہوئی درندگی اور بہیمانہ قتل نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس واردات سے جہاں عوام میں شدید ناراضگی ہے وہیں سیاسی سطح پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اس معاملے پر انتہائی جارحانہ رُخ اختیار کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت اور اتر پردیش کی یوگی حکومت پر شدید تنقید کی۔ راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں اسے صرف ایک جرم نہیں بلکہ ’خطرناک پیٹرن‘ قرار دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر نے الزام لگایا کہ ہاتھرس، کٹھوعہ، اناؤ اور اب غازی پور میں ایک ہی جیسی حقیقتیں سامنے آ رہی ہیں، جہاں مجرم کو تحفظ ملتا ہے اور متاثرہ کے خاندان کو ہراساں کیا جاتا ہے۔

غازی پور کے اس دل دہلا دینے والی واردات نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ الزام ہے کہ عصمت دری اور قتل کے بعد متاثرہ خاندان کو ایف آئی آر درج کرانے سے روکنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ جس ریاست میں ماں باپ کو اپنی بیٹی کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے بھیک مانگنا پڑے، وہاں کی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ متاثرہ دلت، پسماندہ یا غریب ہو تو جرائم پیشہ اکثر اقتدار کے تحفظ میں بے خوف گھومتے ہیں، جو جمہوریت کے لیے سب سے بڑا داغ ہے۔

راہل گاندھی نے اپنے ردعمل میں پرانی سنگین واردات کو یاد دلاتے ہوئے حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ منی پور سے لے کر اتر پردیش تک بیٹیاں انصاف کی راہ دیکھتے دیکھتے دم توڑ رہی ہیں۔ کانگریس لیڈر نے سوال کیا: ’وزیراعظم، وزیراعلیٰ جواب دیں، آپ کے دوراقتدار میں بیٹیاں اتنی غیرمحفوظ کیوں ہیں؟‘ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی خاموشی مجرموں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔  راہل نے انتباہ دیا کہ ایسے حالات میں انصاف مانگا نہیں جاتا ہے، اور ہم چھین کر لائیں گے۔

کانگریس کے سابق صدر نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ان پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جنہوں نے خاندان کو ایف آئی آر درج کرانے سے روکا۔ راہل گاندھی نے متاثرہ خاندان کے لیے سیکورٹی اور اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمین کو سزا دلانے تک یہ لڑائی ختم نہیں ہوگی۔ غازی پور کی اس واردات نے ایک بار پھر ریاست میں امن و امان اور خواتین کی حفاظت کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ پوری اپوزیشن نے اب اس معاملے پر حکومت کو گھیرنا شروع کر دیا ہے جس سے آنے والے دنوں میں اتر پردیش کی سیاسی صورتحال مزید گہری ہونے کا امکان ہے۔

راہل گاندھی کے علاوہ لوک سبھا رکن اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ’ایکس‘ پر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ ’’اترپردیش میں ایک لڑکی کے بہیمانہ قتل کے معاملے میں کیس درج ہونے میں ٹال مٹول، پھر متاثرہ خاندان کو دھمکیاں ملنا اور دبنگوں کی طرف سے شرپسندی پھیلانا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست میں خواتین کے خلاف ظلم وجبر شباب پر ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں اب یہی غیر اعلانیہ قانون بن گیا ہے کہ جب بھی کسی خاتون پر ظلم ہوتا ہے تو متاثرہ کو ہی مزید پریشان کیا جاتا ہے۔ پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ ’’خواتین کے بارے میں وزیر اعظم کی بڑی بڑی باتیں صرف دکھاوا ہیں۔ اناؤ ہو، ہاتھرس ہو، پریاگ راج ہو یا غازی پور، جہاں کہیں بھی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوئی، بی جے پی اپنی پوری طاقت کے ساتھ متاثرہ کے خلاف مجرم کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ ملک بھر کی خواتین یہ اندھیر نگری دیکھ رہی ہیں۔‘‘


Share: