بنگلورو، 8/مئی (ایس او نیوز ) وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے بتایا کہ "آپریشن سندور" کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر ریاست بھر میں احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں، جن کے تحت تمام اہم ہوائی اڈوں اور آبی ذخائر (ڈیموں) پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
بدھ کے روز بنگلورو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ انہیں پاکستان کے خلاف کی گئی ہندوستانی فوجی کارروائی پر فخر ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک کے مفاد میں تمام ریاستوں کو متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے شہری تحفظ سے متعلق رہنمائی اور ہدایات موصول ہوئی ہیں، جن پر عمل کرتے ہوئے ریاست میں ڈیموں اور ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جہاں بھی ضرورت محسوس ہو گی، وہاں اضافی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے مزید بتایا کہ ریاستی حکومت مسلسل مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے رابطے میں ہے اور سیکیورٹی اقدامات کے تحت ریاست کے مختلف شہروں میں ماک ڈرل کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تمام ضلعی انتظامیہ کو چوکنا رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے بھی ضروری تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بھی ضرورت محسوس ہو گی، ریاستی حکومت سیکیورٹی فراہم کرے گی۔ وزیر اعلیٰ کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے اور ریاست میں موجود تمام پاکستانی شہریوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ان تمام اقدامات کی تفصیلات مرکزی حکومت کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کے رائچور کے مجوزہ دورے کی منسوخی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر وزیر اعلیٰ نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نازک وقت میں مرکزی حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کا احتجاج مناسب نہیں ہوگا۔
اسی موقع پر جب وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور سے ہوائی حملے کے تعلق سے کانگریس کے آفیشل ٹویٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے اس ٹویٹ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، اور نہ ہی میں جانتا ہوں کہ اسے کس نے پوسٹ کیا ہے۔
بنگلورو، رائچور، کاروار پر سخت نگرانی: بنگلورو، رائچور اور کاروار کو حساس تنصیبات کی موجودگی کے باعث سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق، بنگلورو جو ملک کی سلیکان ویلی کے طور پر جانا جاتا ہے، یہاں اسرو، یلہنکا ایئر فورس بیس، ڈی آر ڈی او اور دیگر اہم ادارے قائم ہیں۔ کاروار کے قریب دریائے کالی پر واقع کائیگا ایٹمی بجلی گھر ملک کا تیسرا بڑا نیوکلیئر پاور پلانٹ ہے، جبکہ اسی علاقے میں بحریہ کا اہم اڈہ آئی این ایس کدمبا بھی واقع ہے۔ ادھر رائچور تھرمل پاور پلانٹ ریاست کی 70 فیصد بجلی پیدا کرتا ہے۔ ان تمام مقامات پر حفاظتی تیاریوں کے تحت تمثیلی مشقیں کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
دارالحکومت بنگلورو کے 32 مقامات پر چہارشنبہ کی شام 3:58 سے 4 بجے تک جنگی حالت سے آگاہ کرنے والے سائرن بجائے گئے۔ یہ قدم حفاظتی انتظامات کا حصہ تھا تاکہ شہریوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔