بنگلورو، 30 نومبر (ایس او نیوز): کرناٹک میں پچھلے چند دنوں سے زیرِ بحث قیادت کے بحران اور حکومت میں مبینہ اختلافات کی خبروں پر وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے آج مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ان کے درمیان کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں ہے اور دونوں مرکزی قیادت کے فیصلوں پر پوری طرح عمل کریں گے۔
وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ’’میں اور ڈی کے شیوکمار دونوں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی ہدایات کے مطابق ہی کام کریں گے۔ نہ وزراء میں ناراضی ہے، نہ ارکانِ اسمبلی میں کوئی بغاوت۔ جو کچھ میڈیا میں دکھایا جا رہا ہے، وہی افواہوں اور غلط فہمیوں کی اصل وجہ ہے۔‘‘

آج صبح وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ہونے والی ناشتے کی مشترکہ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ، ڈپٹی چیف منسٹر اور قانونی مشیر پوننّا موجود تھے۔ سدارامیا نے وضاحت کی کہ یہ محض ایک باہمی ملاقات تھی، کسی سیاسی سودے بازی یا فیصلہ کا موضوع زیرِ بحث نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے پوننّا کے ذریعے ڈی کے شیوکمار کو ناشتہ پر بلانے کا مشورہ دیا تھا۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں حالیہ خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چند میڈیا اداروں نے معمولی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے، جس سے غیر ضروری تنازع کھڑا ہوا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’کچھ ارکانِ اسمبلی شاید کابینہ میں ردوبدل کے سلسلے میں دہلی گئے ہوں گے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حکومت میں کوئی اندرونی بغاوت چل رہی ہے۔‘‘
سدارامیا نے کہا کہ آئندہ اسمبلی کا سرمائی اجلاس 8 دسمبر سے بیلگاوی میں شروع ہو رہا ہے، جس کے پیشِ نظر ہائی کمان نے دونوں رہنماؤں کو تمام اندرونی غلط فہمیوں کو دور کرکے متحدہ طور پر قیادت سنبھالنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب کوئی اختلاف نہیں، کل بھی نہیں ہوگا۔ ہم دونوں نے اتفاق کیا ہے کہ آنے والے انتخابات کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کریں گے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ 2028 کے اسمبلی انتخابات، بلدیاتی اداروں، کارپوریشن، تعلقہ اور ضلع پنچایت انتخابات پر بھی بات چیت ہوئی ہے، اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ جیسے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں مل کر کام کیا گیا تھا، ویسے ہی آئندہ بھی کانگریس کو اقتدار واپس دلانے کے لیے دونوں متحد ہوکر کام کریں گے۔
اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ’’بی جے پی اور جے ڈی ایس جھوٹے بیانیے، افواہوں اور من گھڑت دعوؤں کے ذریعے ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے۔ یہ مضحکہ خیز ہے۔ ہمارے پاس 142 ارکان ہیں جبکہ بی جے پی کے پاس 64 اور جے ڈی ایس کے پاس 18— مجموعی طور پر صرف 82۔ ایسی کوئی تحریک پہلے ہی ناکام ہے۔‘‘
ڈی کے شیوکمار نے بھی وزیر اعلیٰ کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت پوری طرح متحد ہے اور دونوں قائدین کا مقصد ریاست میں مؤثر حکمرانی فراہم کرنا اور پارٹی کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ہم متحد ہیں اور متحد رہیں گے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے آخر میں کہا کہ ’’ہم بی جے پی اور جے ڈی ایس کی ہر سازش، ہر بے بنیاد الزام اور ہر جھوٹے پروپیگنڈے کا متحد ہوکر پختہ جواب دیں گے۔‘‘