بنگلورو ، 27/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)ڈپٹی وزیراعلیٰ اور کانگریس کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ 2028 اور 2029 کے انتخابات میں کانگریس کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی حکمتِ عملی پر وزیر ستییش جارکِیہولی کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔
کے پی سی سی دفتر بھارت جوڑو بھون کے قریب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ ستییش جارکِیہولی پارٹی کے سینئر رہنما اور "کانگریس کی بڑی طاقت" ہیں، اور دونوں نے مل کر حکومت کے باقی مدت میں کیے جانے والے کاموں کا جائزہ بھی لیا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس میں سی ایم اور ڈپٹی سی ایم کیمپ جیسے مباحث بے بنیاد ہیں۔"ہمارا ایک ہی گروپ ہے — کانگریس گروپ۔ میرا نمبر 140 ہے۔ پوری قیادت اجتماعی ہے، کسی فرد واحد نے پارٹی کو اقتدار میں نہیں لایا۔"
شیوکمار نے واضح کیا کہ عہدوں یا مدت کے بارے میں فیصلے پارٹی ہائی کمان ہی کرے گی۔"یہ سب ذاتی معاملے نہیں۔ پارٹی نے ہمیں پہچانا ہے، اور وہی مناسب وقت پر صحیح فیصلہ کرے گی۔"ڈپٹی سی ایم نے کہا کہ وہ ذاتی عہدے یا اختیارات کے پیچھے نہیں ہیں ۔وزیراعلیٰ بننا اہم نہیں، ریاست میں کانگریس کو پھر سے اقتدار میں لانا زیادہ اہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی میں شخصیت پرستی نہیں بلکہ "پارٹی پرستی" ہے۔
بی جے پی لیڈر آر اشوک کے اس بیان پر کہ شیوکمار وکّلیگا برادری کے لیڈر نہیں، شیوکمار نے جواب دیا کہ"میں نے کب کہا کہ میں کسی ایک برادری کا لیڈر ہوں؟ میں کانگریس کا لیڈر ہوں، البتہ وکّلیگا پیدا ضرور ہوا ہوں۔"انہوں نے طنزیہ کہا کہ اگر اشوک خود کو وکّلیگا لیڈر کہتے ہیں تو "میں انہیں اس کا بیاج بھیج دیتا ہوں، وہ پہن لیں!
"میڈیا کے سوالات پر مسکراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ"آپ لوگوں نے مجھ پر ایسا دباؤ ڈالا ہے کہ میرے خلاف کیس درج کرنا پڑ سکتا ہے۔ مجھے میڈیا نے گھیر رکھا ہے!"۔ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ہندوستانی دستور ملک کی عظیم دولت ہے۔"ہمارا آئین بھگوت گیتا، بائبل اور قرآن کی طرح مقدس ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ملیکارجن کھرگے اور راہول گاندھی کی قیادت میں‘جے باپو، جے بھیم، جے دستور‘ کا نعرہ جاری رہے گا۔ایس سی/ایس ٹی ریزرویشن ختم کرنے اور یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے بیان پر شیوکمار نے کہا کہ"بہت سے طبقات ابھی بھی محروم ہیں۔ ہماری حکومت پسماندہ طبقات کے تناسب سے فنڈ مختص کر رہی ہے۔ مرکز کی این ڈی اے حکومت اس طرح کا کوئی قدم اٹھانے کی جرات نہیں رکھتی۔"