ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / آج سےکرناٹک میں تین روزہ خصوصی اجلاس ؛ خشک سالی اور کستوری رنگن رپورٹ پر ہوگی تفصیلی بحث

آج سےکرناٹک میں تین روزہ خصوصی اجلاس ؛ خشک سالی اور کستوری رنگن رپورٹ پر ہوگی تفصیلی بحث

Mon, 21 Sep 2026 08:18:58    S O News
آج سےکرناٹک میں تین روزہ خصوصی اجلاس ؛ خشک سالی اور کستوری رنگن رپورٹ پر ہوگی تفصیلی بحث

بنگلورو، 21 ستمبر (ایس او نیوز): کرناٹک قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل کا تین روزہ خصوصی اجلاس آج، پیر سے شروع ہورہا ہے۔ 23 ستمبر تک جاری رہنے والے اس خصوصی اجلاس میں ریاست کی خشک سالی کی صورتحال، کسانوں کے مسائل اور مغربی گھاٹ سے متعلق کستوری رنگن کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ماحولیاتی حساس علاقوں سے متعلق مسودہ نوٹیفکیشن پر تفصیلی بحث ہوگی۔ سرکاری پروگرام کے مطابق اسمبلی کی کارروائی آج صبح 11 بجے شروع ہونے والی ہے۔

خصوصی اجلاس بلانے کی بنیادی وجوہات میں گزشتہ مانسون اجلاس کے دوران خشک سالی اور کستوری رنگن رپورٹ سے متعلق اہم امور پر خاطرخواہ بحث نہ ہوپانا شامل ہے۔ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ خصوصی اجلاس میں دونوں ایوانوں کے ارکان کو ان مسائل پر تفصیلی طور پر اپنی رائے رکھنے کا موقع دیا جائے گا۔

مغربی گھاٹ کے ماحولیاتی حساس علاقوں سے متعلق مرکزی حکومت کے ساتویں مسودہ نوٹیفکیشن پر اجلاس میں خاص توجہ رہے گی۔ مرکزی حکومت نے 27 جولائی 2026 کو مسودہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اعتراضات اور تجاویز پیش کرنے کے لیے 60 دن کی مہلت دی تھی، جس کی مدت 27 ستمبر کو ختم ہورہی ہے۔ کرناٹک حکومت اس مسودے کی موجودہ شکل کی مخالفت کرتی رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے نفاذ سے مغربی گھاٹ کے رہائشی علاقوں، کسانوں اور مقامی معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

کستوری رنگن رپورٹ سے متعلق مختلف جماعتوں کے درمیان وسیع پیمانے پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ریاست کے مفادات اور مقامی لوگوں کے خدشات کو مرکزی حکومت کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی اشارہ دیا ہے کہ خصوصی اجلاس میں رپورٹ کے خلاف قرارداد منظور کی جاسکتی ہے۔

خصوصی اجلاس کا دوسرا بڑا موضوع ریاست میں خشک سالی کی صورتحال ہے۔ خشک سالی کے باعث فصلوں کو نقصان، پینے کے پانی کی قلت، چارے کی کمی اور کسانوں کو درپیش مالی مشکلات پر بحث متوقع ہے۔ حکومت کے مطابق مرکز سے خشک سالی سے متعلق امداد اور کسانوں کے لیے اضافی تعاون کا مطالبہ بھی زیر بحث آسکتا ہے۔

حالیہ جائزوں کے مطابق کرناٹک کے بڑی تعداد میں تعلقے خشک سالی کی صورتحال سے متاثر ہیں۔ حکومت کی جانب سے مختلف مرحلوں میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا جارہا ہے، جبکہ کم بارش، فصلوں کے نقصان اور زیر زمین پانی کی سطح میں کمی نے صورتحال کو مزید سنگین بنایا ہے۔

خشک سالی کے معاملے پر حکمران کانگریس اور اپوزیشن بی جے پی و جے ڈی ایس کے درمیان اختلافات نمایاں ہونے کا امکان ہے۔ اپوزیشن حکومت سے خشک سالی سے نمٹنے کے لیے فوری امدادی اقدامات، کسانوں کو معاوضہ اور پینے کے پانی کے مسائل کے حل کا مطالبہ کررہی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ مرکز سے مطلوبہ امداد اور تعاون حاصل کرنے کے لیے ریاست کے مطالبات کو ایوان میں سامنے لایا جائے گا۔

وزیر زراعت این چلوورایاسوامی نے اپوزیشن رہنماؤں سے خصوصی اجلاس میں تعاون کرتے ہوئے خشک سالی اور کستوری رنگن رپورٹ پر بامعنی بحث میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور مرکز کو کس طرح جواب دینا چاہیے، اس پر سنجیدہ تبادلہ خیال ضروری ہے۔

دوسری جانب بی جے پی نے خصوصی اجلاس کی مدت میں توسیع کا مطالبہ بھی کیا ہے، جبکہ حکومت کستوری رنگن رپورٹ کے معاملے پر ریاست کا موقف ایک قرارداد کے ذریعے واضح کرنے کی تیاری کررہی ہے۔


Share: