دبئی 21/جنوری (ایس او نیوز) : گلف میڈیکل یونیورسٹی (GMU) کے ذیلی ادارے تھمبے کالج آف مینجمنٹ اینڈ اے آئی اِن ہیلتھ کیئر نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی ڈیٹاویو ٹیکنالوجیز کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد ہیلتھ کیئر تعلیم، تحقیق اور اختراعات میں مصنوعی ذہانت کے اطلاق کو فروغ دینا ہے۔
اس مفاہمتی یادداشت پر گلف میڈیکل یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر منڈا وینکٹ رمنّا، تھمبے کالج آف مینجمنٹ اینڈ اے آئی اِن ہیلتھ کیئر کے ڈین پروفیسر عامر زید اور ڈیٹاویو ٹیکنالوجیز کے نمائندوں نے دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت ہیلتھ کیئر سے متعلق تعلیمی پروگراموں میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کو مستحکم کیا جائے گا، جس کے لیے انڈسٹری سطح کے اے آئی فریم ورکس، عملی تجربہ گاہیں اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیاں متعارف کرائی جائیں گی۔ اس شراکت داری کے ذریعے طلبہ کو نظریاتی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
مفاہمتی یادداشت کے مطابق گلف میڈیکل یونیورسٹی میں ڈیٹاویو کی معاونت سے اے آئی لیبارٹریز قائم کی جائیں گی، جہاں طلبہ کو مشین لرننگ، کمپیوٹر وژن، جینیریٹو اے آئی اور ڈیٹا انٹیلیجنس جیسے شعبوں میں عملی تجربہ حاصل ہوگا، جنہیں خاص طور پر ہیلتھ کیئر اور بین الشعبہ جاتی اختراعات کے لیے تیار کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ عالمی معیار کے مطابق مستقبل سے ہم آہنگ نصاب تیار کیا جائے گا، جس کا مقصد طلبہ کو صحت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیشہ ورانہ تقاضوں کے لیے بہتر طور پر تیار کرنا ہے۔ مشترکہ تحقیق کے منصوبوں میں ہیلتھ کیئر تشخیص، پیش گوئی پر مبنی نظام اور ذہین آٹومیشن جیسے شعبے شامل ہوں گے۔
معاہدے کے تحت طلبہ کے لیے رہنمائی، انٹرن شپ پروگرامز اور اختراعی مقابلے بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ انہیں عملی میدان میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے تھمبے کالج آف مینجمنٹ اینڈ اے آئی اِن ہیلتھ کیئر کے ڈین پروفیسر عامر زید نے کہا کہ یہ اشتراک تعلیمی نظریات اور صنعتی تقاضوں کے درمیان فاصلے کو کم کرے گا اور طلبہ کو ڈیجیٹل ہیلتھ کے شعبے میں عملی مہارت حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
ڈیٹاویو ٹیکنالوجیز کے بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر ویدانت اہلووالیہ نے کہا کہ گلف میڈیکل یونیورسٹی کا وژن مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے اور یہ شراکت داری طلبہ کو جدید مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے ساتھ براہِ راست کام کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔
یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں مصنوعی ذہانت سے مربوط ہیلتھ کیئر تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے، جس سے تحقیق اور صنعتی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔