دوبئی 24/جون (ایس او نیوز) ایران کی نیوکلیائی تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد جوابی کاروائی کرتے ہوئے ایران نے خلیج فارس میں قائم قطر اور عراق میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر پیر رات کو حملہ کرتے ہی غالباََ امریکہ کے ہوش ٹھکانے آگئے اور منگل صبح ہوتے ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ مگر پتہ چلا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کرتے ہوئے کئی لوگوں کو ہلاک اور زخمی کردیا ہے۔ ادھر دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری 12روزہ جنگ کو ختم کرنے کے لئے مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک نے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی پر اتفاق کرلیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر پوسٹ کیا، 'سب کو مبارک ہو! ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل اور حتمی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ جنگ بندی چھ گھنٹے کے اندر شروع ہو جائے گی اور ایران کو پہلے اس کی تعمیل کرنی ہوگی۔ ایران کی جانب سے جنگ بندی پر عمل کرنے کے بعد اسرائیل بھی اگلے 12 گھنٹوں کے بعد جنگ بندی میں شامل ہو جائے گا۔ 24 گھنٹے بعد جنگ کا باضابطہ طور پر ختم ہونے پر غور کیا جائے گا۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کی ہمت اور ذہانت کی تعریف کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ جنگ برسوں تک جاری رہ سکتی تھی جس سے مشرق وسطیٰ تباہ ہو سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور نہ کبھی ہو گا۔
انہوں نے کہا، خدا ایران پر رحم کرے، خدا اسرائیل پر رحم کرے، خدا مشرق وسطیٰ پر رحم کرے، خدا امریکہ پر رحم کرے اور خدا پوری دنیا کو خوش رکھے۔