تہران ، 9/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اپنی ہی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے اور بغلیں بجاتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے ایک بڑا دن قرار دیا اور کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو ہموار بنانے میں مدد کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران جنگ بندی کے لئے اس لئے تیار ہوگیا کیونکہ وہ اس صورتحال سے تنگ آ چکا ہے، اور اسی طرح باقی فریقین بھی تھک چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بہتر بنانے میں تعاون کرے گا اور اس سلسلے میں کئی مثبت اقدامات کئے جائیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس سے بڑے پیمانے پر معاشی فوائد حاصل ہوں گے اور ایران اپنی تعمیر نو کا عمل شروع کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر طرح کی سپلائی فراہم کریں گے اور یہیں قریب موجود رہیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سب کچھ درست طریقے سے چلتا رہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالات اب بہتری کی جانب بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دور مغربی ایشیا کے لئے، امریکہ کی طرح، ایک سنہری دور ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ردعمل میں بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت سنجیدگی کے ساتھ کہا کہ یہ ایرانی قوم کے اتحاد ، ایرانی افواج کی شجاعت اور جوانمردی اورایرانی قوم کے صبر و استقلال کی فتح ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایران نے اپنے دشمنوں کو نہ صرف ناکوں چنے چبانے پر مجبور کردیا بلکہ ان سے اپنی شرطوں پر جنگ بندی کرواکے یہ ثابت کردیا کہ ایرانی قوم شجاعت اور ہمت میں دنیا کی بہترین قوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ۲؍ ہفتوں کی جنگ بندی طویل ہو گی اور اب دشمن ممالک مزید کوئی حملہ کرنے کی غلطی نہیں کریں گے۔ مسعود پزشکیان نے یہ بھی واضح کردیا کہ ایران مزید کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔