ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / بھٹکل ریلوے اسٹیشن: 17 ٹرینوں کا اسٹاپ، کنیکٹیویٹی مضبوط مگر بنیادی سہولیات میں خامیوں پر مسافروں کی شکایت

بھٹکل ریلوے اسٹیشن: 17 ٹرینوں کا اسٹاپ، کنیکٹیویٹی مضبوط مگر بنیادی سہولیات میں خامیوں پر مسافروں کی شکایت

Thu, 02 Apr 2026 11:00:46    S O News
بھٹکل ریلوے اسٹیشن: 17 ٹرینوں کا اسٹاپ، کنیکٹیویٹی مضبوط مگر بنیادی سہولیات میں خامیوں پر مسافروں کی شکایت

بھٹکل، 24 مارچ (ایس او نیوز): ساحلی کرناٹک کا بھٹکل ریلوے اسٹیشن ملک کے اہم ریلوے مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے دہلی، احمد آباد، ممبئی، گوا، کاروار، بینگلورو، منگلورو، کالی کٹ، کوچین اور ترواننتاپورم سمیت کئی بڑے شہروں کے لئے ٹرین سروس دستیاب ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر 17 ریگولر ٹرینیں بھٹکل میں رکتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ اسٹیشن روزانہ سفر کرنے والے مسافروں، تاجروں اور طویل مسافت طے کرنے والوں کے لئے ایک اہم ذریعۂ آمد و رفت بنا ہوا ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق مسافروں کی سہولت کے لئے اسٹیشن پر بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں پینے کے پانی کا انتظام، ٹوائلٹس، ویٹنگ روم، پلیٹ فارم پر مناسب بیٹھنے کی سہولت اور صفائی ستھرائی کا معقول نظام شامل ہے۔ ریلوے پولیس کی جانب سے حفاظتی انتظامات بھی موجود ہیں، جبکہ مقامی سماجی و تجارتی ادارے اور رضاکار وقتاً فوقتاً مسافروں کی مدد کے لئے خدمات انجام دیتے ہیں۔

باقاعدہ سفر کرنے والے، خصوصاً کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ بھٹکل سے روزانہ سینکڑوں افراد ملک کے مختلف حصوں کا سفر کرتے ہیں۔ یہاں رکنے والی اہم ٹرینوں میں منگلا ایکسپریس، ممبئی سی ایس ایم ٹی – منگلورو ایکسپریس، متسی گندھا ایکسپریس، نیتراوتی ایکسپریس، اوکھا ایکسپریس، پنچ گنگا ایکسپریس، یشونت پور ایکسپریس، پورنا ایکسپریس اور مروساگر ایکسپریس شامل ہیں۔

مزید ٹرین اسٹاپ کا مطالبہ

IMG-20260324-WA0031

تاہم، مسافروں اور مقامی افراد، بالخصوص بھٹکل وکاس سمیتی (BVS) نے کئی دیرینہ مطالبات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ کاروباری مسافروں کو مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ سمیتی نے ریلوے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہفتہ وار کوچویلی–گنگا نگر ایکسپریس، کوچویلی–بھاؤنگر ایکسپریس، ترواننتاپورم–ویراول ایکسپریس اور ناگرکوئل–گاندھی دھام ایکسپریس کو بھٹکل میں اسٹاپ دیا جائے۔

اسی طرح ہفتہ وار ایرناکولم–پونے سوپرفاسٹ ایکسپریس، کوچویلی–ممبئی غریب رتھ سوپرفاسٹ ایکسپریس اور ہفتہ میں تین دن چلنے والی ترواننتاپورم–نظام الدین راجدھانی ایکسپریس کو بھی یہاں روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جلد شروع ہونے والی بینگلورو–کاروار وندے بھارت ایکسپریس کو بھی بھٹکل میں اسٹاپ دینے کی مانگ کی گئی ہے۔

بی وی ایس کے صدر کرشنانند وی پربھو کے مطابق اس سلسلے میں ایک یادداشت اتر کنڑا کے رکن پارلیمنٹ وشویشور ہیگڑے کاگیری کو پیش کی جاچکی ہے۔

پلیٹ فارم پر مکمل شیڈ کی کمی

IMG-20260402-WA0042

مقامی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی نے کہا کہ اگرچہ اسٹیشن پر بنیادی سہولیات موجود ہیں، لیکن پلیٹ فارم پر مکمل شیڈ نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف محدود حصہ ہی ڈھکا ہوا ہے جس کی وجہ سے بارش کے موسم میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے پلیٹ فارم پر چھت فراہم کی جائے تاکہ مسافروں کو راحت مل سکے۔

ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی

بھٹکل سٹیزن فورم کے صدر ستییش کمار نائک نے ریلوے اسٹیشن اور شہر کے درمیان ٹرانسپورٹ کے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیشن سے بس اسٹینڈ یا شہر کے دیگر حصوں تک جانے کے لئے مناسب پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں سے اس مسئلے کو فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

بزرگ مسافروں کے لئے مشکلات

سماجی کارکن منجو نائک نے کہا کہ پلیٹ فارم کو جوڑنے والا فٹ اوور برج بزرگ شہریوں کے لئے استعمال کرنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق سنئیر لوگوں کو پلیٹ فارم تبدیل کرنے کے لئے سیڑھیوں پر چڑھنا پڑتا ہے، جس شدید دشواری پیش آتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دیگر بڑے اسٹیشنوں کی طرح یہاں بھی ایسکلیٹر یا لفٹ کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ معمر افراد کو دشواری نہ ہو۔

ریلوے اسٹیشن جانے والی سڑک کی خستہ حالی

IMG-20260402-WA0041

سماجی کارکن جاوید مکری نے ریلوے اسٹیشن جانے والی سڑک کی خراب حالت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سڑک جگہ جگہ گہرے گڑھوں سے بھری ہوئی ہے اور اس کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیشن کا داخلی راستہ بھی بدحالی کا شکار ہے انہوں نے عوامی نمائندوں سے اس جانب توجہ دینے اور اس کی درستگی پر زور دیا۔

سڑک کی خستہ حالی کو لے کر مقامی افراد بھی شکایت کررہے ہیں کہ  یہ سڑک روزانہ سفر کرنے والے مسافروں اور گاڑی چلانے والوں کے لئے بڑی پریشانی کا سبب بن چکی ہے۔ گڑھے دن بہ دن وسیع ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے دو پہیہ گاڑیوں، آٹو رکشہ اور کاروں کی آمد و رفت مشکل ہوگئی ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ ٹرین پکڑنے کی جلدی میں بھی یہ گڑھے ان کے لئے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

IMG-20260402-WA0039

پیدل چلنے والوں کے لئے بھی صورتحال نہایت دشوار ہوچکی ہے، جبکہ بارش کے دوران یہ گڑھے پانی سے بھر جاتے ہیں جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سڑک کی مرمت کی جائے، جبکہ عوام نے ریلوے محکمہ سے بھی اس مسئلے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔

ٹکٹنگ اور ٹرین سیفٹی کے مسائل

انجمن کالج کے سابق پرنسپل اے ایم ملا نے تتکال ٹکٹوں کی عدم دستیابی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اکثر مسافروں کو بروقت ریزرویشن نہیں مل پاتا۔ انہوں نے ٹرین کے دروازوں کے لاک سسٹم کو جدید بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ بعض مواقع پر ہوا کے دباؤ سے دروازے اچانک کھل جاتے ہیں، جو مسافروں کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ٹرین میں فراہم کئے جانے والے کھانے کے معیار کو بہتر بنانے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔

دیگر بنیادی مسائل

مسافروں اور روزانہ سفر کرنے والوں نے دیگر مسائل کی بھی نشاندہی کی ہے، جن میں پلیٹ فارم کے بعض حصوں میں ناکافی روشنی، ڈیجیٹل ڈسپلے بورڈ کی عدم موجودگی، اور معذور افراد کے لئے ریمپ اور وہیل چیئر جیسی سہولیات کا فقدان شامل ہے۔

ان تمام مسائل کے باوجود بھٹکل ریلوے اسٹیشن علاقہ کے لئے ایک اہم لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر میں بہتری لائی جائے اور متعلقہ محکمے باہمی تال میل کے ساتھ کام کریں تو یہ اسٹیشن مزید بہتر اور مسافر دوست مرکز بن سکتا ہے۔


Share: