لکھنؤ/مرادآباد یکم اپریل (ایس او نیوز/ایجنسیاں): اتر پردیش میں پولیس نے ایک ایسے خطرناک ہسٹری شیٹر کو گرفتار کیا ہے جو تقریباً دو دہائیوں تک اپنی شناخت چھپا کر “سلطان” کے نام سے دوہری زندگی گزاررہا تھا۔ پتہ چلا ہے کہ پولس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کا پردہ فاش کیا اور بعد میں اسے حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نریش، جو مرادآباد ضلع کا رہنے والا ہے، گزشتہ قریب 20 سے 21 سال سے مفرور تھا۔ اس نے پڑوسی ضلع سنبھل میں “سلطان” کے نام سے نئی شناخت اختیار کر لی تھی اور وہیں ایک عام مزدور کی طرح زندگی گزار رہا تھا۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ نریش نے اپنی پہچان مکمل طور پر تبدیل کر لی تھی۔ اس نے داڑھی بڑھا رکھی تھی، مسجد کے قریب کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی اور باقاعدگی سے نماز ادا کرتا تھا تاکہ اس کی نئی شناخت پر کسی کو شک نہ ہو۔
پولیس نے بتایا کہ ملزم نے جعلی دستاویزات کا بھی ایک مکمل نیٹ ورک تیار کر رکھا تھا، جن میں آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی، پین کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات شامل ہیں، جو سب “سلطان” کے نام پر بنوائے گئے تھے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پولیس نے ہسٹری شیٹروں کی تصدیق کے لیے ایک خصوصی مہم شروع کی۔ “یقش ایپ” (Yaksh App) نامی فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے پرانی تصاویر کا موازنہ کیا گیا، جس سے “سلطان” کی اصل شناخت نریش کے طور پر سامنے آگئی۔
پولیس حکام کے مطابق نریش کے خلاف لوٹ، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے کم از کم 9 مقدمات درج ہیں، جو مختلف تھانوں میں زیر التوا ہیں۔ وہ ماضی میں جیل بھی جا چکا ہے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے ہی اس نے اپنی شناخت تبدیل کی تھی۔
گرفتاری کے بعد ملزم نے ابتدا میں خود کو “سلطان ولد جمال الدین” بتا کر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، تاہم سخت پوچھ گچھ کے دوران اس نے اپنی اصل شناخت قبول کر لی۔
پولیس نے اس کے خلاف جعلی دستاویزات رکھنے اور شناخت چھپانے کے نئے مقدمات بھی درج کیے ہیں اور عدالت میں پیش کرنے کے بعد اسے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے دیگر جرائم اور ممکنہ ساتھیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔