واشنگٹن، یکم اپریل (ایس او نیوز/ایجنسیاں): ایران پر حملوں کے بعد ایران کی جوابی حملوں کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی تیل بحران کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادی ممالک، خصوصاً برطانیہ اور فرانس، پر سخت تنقید کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ توانائی کے مسائل کے لیے امریکہ پر انحصار ترک کریں اور “اپنا تیل خود حاصل کریں”۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے ان ممالک کو نشانہ بنایا جنہوں نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں میں شامل ہونے سے گریز کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ جو ممالک آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران کے باعث ایندھن کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ یا تو امریکہ سے تیل خریدیں یا پھر “ہمت دکھائیں” اور خود اس خطے سے تیل حاصل کریں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ اب ایسے ممالک کی مدد کے لیے آگے نہیں آئے گا۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے خاص طور پر برطانیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے ایران کے خلاف کارروائی میں تعاون نہیں کیا، جبکہ فرانس پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے امریکی فوجی اقدامات میں رکاوٹیں ڈالیں۔
سفارتی حلقوں نے ٹرمپ کے اس بیان کو غیر معمولی اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر سلامتی کی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان میں اتحادی ممالک کو خودمختار عسکری اقدام کی ترغیب اور امریکہ کی روایتی دفاعی حمایت سے ممکنہ دستبرداری کا واضح اشارہ بھی موجود ہے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی توانائی سپلائی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔