ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل نوائط کالونی کے قریب بلیک پینتھر کی نقل و حرکت؛ معمر شخص پر حملے کی کوشش، عوام میں خوف و ہراس

بھٹکل نوائط کالونی کے قریب بلیک پینتھر کی نقل و حرکت؛ معمر شخص پر حملے کی کوشش، عوام میں خوف و ہراس

Sun, 29 Mar 2026 01:28:48    S O News
بھٹکل نوائط کالونی کے قریب بلیک پینتھر کی نقل و حرکت؛ معمر شخص پر حملے کی کوشش، عوام میں خوف و ہراس

بھٹکل، 28 مارچ (ایس او نیوز): بھٹکل کی نوائط کالونی میں سنیچر شام اُس وقت کھلبلی مچ گئی جب ایک بلیک پینتھر انسانی آبادی میں داخل ہو کر ایک معمر شخص پر جھپٹنے کی کوشش کی، تاہم عین وقت پر مداخلت سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ واقعہ مریم علی مسجد کے عقب میں پیش آیا، جس کے بعد ایک طرف علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی، تو دوسری جانب کئی نوجوان سیاہ تیندوے کو قریب سے دیکھنے کے شوق میں گھروں سے باہر نکل آئے اور جائے وقوع پر اس کی تلاش میں مصروف ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق مقامی رہائشی شفیع کے والد حسن صاحب عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد کے پیچھے واقع اپنے مکان کی جانب جا رہے تھے کہ اچانک گھات لگائے بیٹھے بلیک پینتھر نے ان پر جھپٹنے کی کوشش کی۔ اس دوران وہ زمین پر گر پڑے۔ اسی لمحے گھر کے باہر موجود ان کے فرزند شفیع نے صورتحال بھانپتے ہوئے تیزی سے موقع کی جانب دوڑ لگائی، جسے دیکھ کر تیندوہ چند لمحوں میں وہاں سے فرار ہو گیا اور قریبی جھاڑیوں میں غائب ہوگیا۔

IMG-20260329-WA0006

واقعہ کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں لوگ جائے وقوع پر جمع ہوگئے۔ ابھی لوگ اس واقعہ پر گفتگو ہی کر رہے تھے کہ تقریباً ایک گھنٹے بعد اسی علاقے میں، مریم علی مسجد سے قریب دو سو میٹر کے فاصلے پر، ایک اور رہائشی بشیر احمد نے اپنے مکان کے باہر اسی بلیک پینتھر کو بیٹھا دیکھا۔ بشیر کو دیکھتے ہی تیندوہ تیزی سے آگے کی سمت بھاگ نکلا، جس سے علاقے میں مزید خوف پھیل گیا۔

اطلاع ملتے ہی محکمہ جنگلات کے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور تیندوے کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا۔ تیندوے کو انسانی آبادی سے دور جنگل کی جانب ہانکنے کے لیے پٹاخے بھی پھوڑے گئے، جبکہ مریم علی مسجد کے عقب سے لے کر مینگو فارم کے جنگلاتی علاقوں تک تلاشی مہم چلائی گئی۔ رات کے اندھیرے میں طاقتور ٹارچ لائٹس کی مدد سے جھاڑیوں اور درختوں کے اطراف چھان بین کی گئی، تاہم رپورٹ تیار کیے جانے تک تیندوے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔

محکمہ جنگلات کے ایک اہلکار نے ابتدائی اندازہ ظاہر کیا کہ مذکورہ تیندوہ غالباً ساگر روڈ کے جنگلاتی علاقے سے کڑوین کٹہ کے راستے شہری حدود میں داخل ہوا ہوگا۔ اسی دوران مقامی نوجوان عبدالرحمن نے انکشاف کیا کہ اس نے دو روز قبل ہیگل ندی کے قریب اسی بلیک پینتھر کو دیکھا تھا۔ اس کے مطابق وہ ندی کنارے مچھلیاں پکڑ رہا تھا کہ اچانک خطرے کا احساس ہوا۔ پیچھے مڑ کر ٹارچ جلائی تو تیندوہ بالکل قریب موجود تھا۔ روشنی پڑتے ہی تیندوہ غراہٹ کے ساتھ وہاں سے فرار ہوگیا۔

IMG-20260329-WA0007

مقامی سماجی کارکن نوفل کھروری کے مطابق گزشتہ چار سے پانچ دنوں سے یہ بلیک پینتھر ساگر روڈ کے جنگلات سے بھٹک کر رہائشی علاقوں میں گھوم رہا ہے، جس کے باعث عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جیسے ہی تیندوے کی موجودگی کی خبر پھیلی، مریم علی مسجد سے لے کر مزمل مسجد اور کارگیدے تک کے علاقوں میں عام طور پر نظر آنے والے کتوں کے جھنڈ اچانک غائب ہوگئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ کوئی بڑا شکاری جانور علاقے میں موجود ہے۔

رات دیر گئے تک جاری رہنے والی تلاش کے باوجود تیندوے کا پتہ نہ چلنے پر مقامی لوگوں میں خوف کی فضا برقرار ہے۔ والدین اپنے بچوں کو صبح اسکول بھیجنے کے حوالے سے فکرمند دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب بعض نوجوان اس نایاب بلیک پینتھر کو قریب سے دیکھنے کے شوق میں اسکوٹروں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر علاقے میں گھومتے رہے اور درختوں، حتیٰ کہ آم کے باغات میں بھی ٹارچ کی روشنی ڈال کر اسے تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے، جس پر مقامی ذمہ داران نے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔


Share: