ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک کی پہلی مرین وائلڈ لائف سینکچوری ہوناور میں قائم؛ سیاحت اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ ملنے کی امید

کرناٹک کی پہلی مرین وائلڈ لائف سینکچوری ہوناور میں قائم؛ سیاحت اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ ملنے کی امید

Sat, 28 Mar 2026 20:00:33    S O News
کرناٹک کی پہلی مرین وائلڈ لائف سینکچوری ہوناور میں قائم؛ سیاحت اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ ملنے کی امید

ہوناور، 28 مارچ (ایس او نیوز): ضلع اتر کنڑا کے ساحلی شہر ہوناور میں اپسر کونڈا سے منکی کے مڈی علاقے تک ریاست کی پہلی مرین وائلڈ لائف سینکچوری کے قیام کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اس اہم منصوبے کا مقصد مختلف النوع سمندری حیات کو محفوظ ماحول فراہم کرنا، سمندری سائنس (اوشیونولوجی) کے طلبہ کے لیے تحقیقی مواقع پیدا کرنا اور سیاحوں کے لیے ایک منفرد کشش مہیا کرنا ہے۔

’موگلی–اپسرکونڈا مرین سینکچوری‘ کے نام سے قائم کیے جانے والے اس پروجیکٹ کے تحت تقریباً 7.7 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کو محفوظ علاقہ قرار دیا جائے گا۔ اس سینکچوری میں ڈولفین، شارک، وہیل، سمندری کچھوے، کورلز سمیت دیگر سمندری جانداروں کے علاوہ نایاب پرندوں اور مخصوص قدرتی ساخت کے حامل نیٹرائٹ پلیٹوز کے تحفظ کا بھی جامع انتظام کیا جائے گا۔

محکمہ جنگلات نے اس علاقے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو مرین سینکچوری کے قیام کی تجویز پیش کی تھی، جسے کابینہ کی منظوری ملنے کے بعد عملی شکل دی گئی۔ ابتدائی مرحلے میں ایک کروڑ روپے کی لاگت سے ترقیاتی کام شروع ہو چکا ہے، جبکہ ریاستی وزیر اعلیٰ کی خصوصی دلچسپی کے پیش نظر منصوبے کا باضابطہ افتتاح بھی ان کے ہاتھوں متوقع ہے۔

یہ سینکچوری مجموعی طور پر 635.12 ہیکٹر زمینی اور 5124 ہیکٹر زیرِ آب رقبے پر مشتمل ہوگی۔ منصوبے کے تحت اس پورے علاقے کو اس کی فطری حالت میں برقرار رکھتے ہوئے محفوظ بنایا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہاں ساحل کے ساتھ چہل قدمی، کشتی رانی اور رات کے پُرسکون ماحول میں قدرتی مناظر کا مشاہدہ سیاحوں کے لیے ایک منفرد اور یادگار تجربہ ثابت ہوگا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ اس منصوبے سے مقامی ماہی گیروں، رہائشیوں یا نجی زمین مالکان کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہوگا۔ بلکہ سیاحتی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث نجی اراضی کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے، جس سے مقامی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔

قابلِ ذکر ہے کہ ضلع اتر کنڑا میں مرحوم آر این شیٹی کی جانب سے مرڈیشور میں تعمیر کردہ مندر اور سیاحتی مرکز عالمی سطح پر شہرت حاصل کر چکا ہے۔ اسی طرز پر محکمہ جنگلات کے سابق افسران کرشنا اودو پوڑی اور وسنت ریڈی نے اپسر کونڈا، ایکو بیچ، ونائیک ون، کانڈلا ون اور شراوتی بوٹنگ جیسے کامیاب سیاحتی مقامات کو فروغ دیا۔

موجودہ ڈویژنل فارسٹ آفیسر (DFO) یوگیش نے بھی مرین وائلڈ لائف سینکچوری کے قیام کے لیے مسلسل محنت کرتے ہوئے ابتدائی تیاریوں کو مکمل کیا ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل میں ضلع اتر کنڑا کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز بن کر ابھرے گا۔

ادھر دھرمستھلا کے معروف سماجی رہنما ڈاکٹر ویرندر ہیگڑے نے بھی اس علاقے میں تقریباً 10 کروڑ روپے کی لاگت سے ’رانی چنّا بھیروا دیوی تھیم پارک‘ قائم کرنے کے لیے زمین کی درخواست دی ہے۔ اگر محکمہ جنگلات کی جانب سے زمین لیز پر فراہم کی جاتی ہے تو اس منصوبے کی تکمیل سے علاقے کی سیاحتی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا۔


Share: