ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو: ملک کی سب سے بڑی غار 'راک کیورن' میں شروع ہوگیا ایل پی جی ذخیرہ اور تقسیم کرنے کا عمل

منگلورو: ملک کی سب سے بڑی غار 'راک کیورن' میں شروع ہوگیا ایل پی جی ذخیرہ اور تقسیم کرنے کا عمل

Wed, 25 Mar 2026 11:02:46    S O News
منگلورو: ملک کی سب سے بڑی غار 'راک کیورن' میں شروع ہوگیا ایل پی جی ذخیرہ اور تقسیم کرنے کا عمل

منگلورو ،25 / مارچ (ایس او نیوز) اس ہفتے ’پائکسس پائنیر‘ نامی  ایل پی جی کارگو جہاز امریکہ کے ٹیکساس  سے تقریباً 47,236 ٹن ایل پی جی لے کر نیو منگلورو بندرگاہ پر پہنچا اور اس کھیپ سے تقریباً 16,714 ٹن ایل پی جی کو منگلورو پورٹ پر اتارا جا رہا ہے ۔  مرکزی حکومت کا کہنا ہے آنے والے دنوں میں مزید کئی جہازوں کی آمد متوقع ہے، جو نیو منگلورو پورٹ کو کل 72,700 ٹن ایل پی جی کو سنبھالنے کے قابل بنائے گی ۔

منگلورو پورٹ کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت : ایل پی جی سے بھری ان بڑی کھیپوں کی آمد منگلورو میں توانائی کے ایک تاریخی منصوبے سے منسلک ہے ۔ جو ہندوستان کی سب سے بڑی زیر زمین ایل پی جی اسٹوریج کی سہولت 'راک کیورن' کی شکل میں کاٹیپلا کے قریب واقع ہے ۔

ایل پی جی ذخیرہ کرنے کے لئے پہاڑ کے اندر اس غار کو انجینئرز انڈیا لمیٹڈ کے ذریعہ ڈیزائن کیا گیا اور میگھا انجینئرنگ کے ذریعہ تعمیر کیا گیا ہے جو بالا میں اہچ پی سی ایل یونٹ کے احاطے میں موجود ہے اور یہ 80,000 میٹرک ٹن ایل پی جی ذخیرہ کرسکتا ہے ۔ یہ ہندوستان کی سب سے بڑی واحد زیر زمین ایل پی جی اسٹوریج کی سہولت ہے ۔

890  کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا گیا یہ غار صرف ذخیرہ کرنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ توانائی کا ایک اسٹریٹجک ذخیرہ ہے ۔ افسران کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جیسے حالات، بین الاقوامی سپلائی میں خلل، یا قیمتوں میں اچانک اضافے جیسے ہنگامی حالات کے دوران ایل پی جی کی سپلائی کی حفاظت کرے گا اور گھریلو استعمال کے لئے  بلا تعطل رسوئی گیس تک رسائی کو یقینی بنائے گا ۔

خام تیل کے زیر زمین ذخیرے :ملک میںں پہلے ہی وشاکھاپٹنم، منگلورو، اور پڈور (اُڈپی ضلع) میں اسی طرح کے زیر زمین ذخیرہ کی سہولت موجود ہے جس کی مجموعی صلاحیت 5.33 ملین میٹرک ٹن خام تیل ہے، جو تقریباً 9.5 دنوں کی قومی طلب کے لیے کافی ہے ۔ چندیکھول (اڈیشہ) اور پڈور میں اضافی غاروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس میں ذخائر کی گنجائش کو 22 دنوں تک مانگ پورا کرنے کی حد تک بڑھا دیا جائے گا ۔

MagaloreCavern_1
کیسے بنا ہے یہ غار :انجینئرز انڈیا لمیٹڈ کے ترجمان نے بتایا کہ "منگلورو راک کیورن ہندوستان میں اپنی نوعیت کی پہلی سہولت ہے جسے خصوصی طور پر ایل پی جی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ اناج کو ذخیرہ کرنے والے روایتی گوداموں کے برعکس یہ غار زیادہ سے زیادہ حفاظت کے ساتھ ہائی پریشر ایندھن کو ذخیرہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں ۔"

اس غار کو سطح سمندر سے تقریباً 156 میٹر نیچے ٹھوس چٹان کے اندر تراشا گیا ہے اور اس میں ہائیڈرولک کنٹینمنٹ کا استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ ایک قدرتی طریقہ کار ہے جہاں زیر زمین پانی کا دباؤ گیس کے اخراج کو روکتا ہے ۔ تمام حفاظتی اور آپریشنل ٹیسٹ بشمول مسلسل 100 گھنٹے ونڈ پریشر ٹرائل، جون 2025 تک کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئے ہیں ۔

یہاں ذخیرہ کی گئی ایل پی جی، پائپ لائنوں کے ذریعے میسورو، بنگلورو اور حیدرآباد کو سپلائی کی جاتی ہے، جو درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرنے والے ملک میں سپلائی میں رکاوٹ اور قیمت کے اتار چڑھاؤ کے خلاف ایک بفر فراہم کرتی ہے ۔

گیس ذخیرہ اور سپلائی کا نظام :'راک کیورن' غار نیو منگلورو پورٹ کے ذریعے درآمد شدہ ایل پی جی حاصل کرتا ہے اور اسے منگلورو ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹ کے ساتھ ساتھ سڑک اور ریل ٹینکروں کے ذریعے تقسیم کرتا ہے ۔

جیسا کہ دی اکنامک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کراس کنٹری پائپ لائنز جنوبی شہروں تک آسانی سے ترسیل کو یقینی بناتی ہیں، جو کہ غار کو ہندوستان کی توانائی کی حفاظت کا ایک اہم مرکز بناتی ہے ۔

اس سہولت میں 1.1 کلومیٹر لمبی مرکزی رسائی والی سرنگ، دو بنیادی اسٹوریج غاروں — Cavern S1 (220 m) اور Cavern S2 (225 m) — اور 486.2 میٹر منسلک سرنگیں شامل ہیں ۔  جو مجموعی طور پر تقریباً نصف کلومیٹر زیر زمین اسٹوریج بناتے ہیں ۔ زمین سے 156 میٹر نیچے یہ غار ایک 50 منزلہ عمارت کے برابر ہے ۔

اس سسٹک کے کام کرنے کی ایک اہم خصوصیت اس کا 6.5 میٹر قطر کا آپریشن شافٹ ہے، جو 164.5 میٹر تک پھیلا ہوا ہے جس کے ذریعے جدید پمپ ایل پی جی نکالتے ہیں ۔ غار کے ارد گرد 13 کلومیٹر سے زیادہ پرفوریشنز کے ساتھ ایک 'واٹر کرٹین' پروٹیکشن سسٹم دباؤ کو برقرار رکھتا ہے اور چٹانوں کے شگافوں سے رساؤ کو روکتا ہے ۔  

بیک وقت80,000  ٹن ایل پی جی کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ  منگلورو 'راک کیورن' ہندوستان میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں معیار، حفاظت، اور جدید انجینئرنگ کے امتزاج کا ایک اہم مقام بن گیا ہے ۔


Share: