تہران، 26 /مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اب دوست ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔ ان ممالک میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین، روس، عراق اور پاکستان کا نام بھی لیا گیا ہے۔ ایران کے تازہ فیصلے کا مطلب ہے کہ ہندوستانی جہازوں کو اس راستے سے محفوظ طریقے سے گزرنے دیا جائے گا۔ تاہم ایک شرط عائد کی گئی ہے کہ جہازوں کو پہلے ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ کرنا ہوگا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھرمیں اس راستے کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں کیونکہ یہی راستہ دنیا کے سب سے بڑے تیل سپلائی راستوں میں سے ایک ہے۔ اگر یہ بند ہو جاتا ہے تو ہندوستان جیسے ممالک کے لیے تیل کی قیمتیں اور سپلائی دونوں پر اثر پڑتا ہے۔
ایران کے اس فیصلے سے ہندوستان کو بڑی راحت ملی ہے کیونکہ ہندوستان کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے آتا ہے، اگر یہ راستہ بند رہتا تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید مہنگی ہو سکتی تھیں۔ ایران نے پہلے بھی واضح کیا تھا کہ غیر دشمن بحری جہاز (یعنی جو ایران کے خلاف نہیں) اس راستے سے گزر سکتے ہیں لیکن اب یہ اصول مزید سخت کر دیا گیا ہے اب ہر جہاز کو پہلے اجازت لینا ہوگی اور حفاظتی قوانین پر عمل کرنا ہو گا۔
دریں اثنا ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی کے آگے جھکیں گے۔ سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی اس وقت کوئی براہ راست بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ تنازعات کا مستقل اور پائیدار حل چاہتا ہے تاہم تہران جنگ کے مکمل خاتمے اور ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ حکام امن کے حوالے سے پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ امریکہ مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے تاہم یہ پیغامات مذاکرات کے مترادف نہیں ہیں۔
اسی دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل، گیس اور کھاد کی سپلائی میں خلل پڑ رہا ہے جس کے اثرات دنیا بھر میں خاص طور پر زرعی موسم میں پڑ رہے ہیں۔ گوٹیریس نے امریکہ اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ جلد ازجلد جنگ کو ختم کریں، کیونکہ اس سے شہریوں کی حالت زار مزید خراب ہو رہی ہے اورعالمی معیشت پر شدید اثر پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایران سے بھی اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔