نئی دہلی ، 26 /مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا نے گزشتہ چند برسوں کے دوران پارلیمنٹ میں بارہا ایسے مسائل اٹھائے جو عام شہری کی زندگی سے براہِ راست جڑے ہیں۔ ان کی مداخلتیں مختلف مواقع پر پالیسی، معیشت، روزگار اور صارفین کے حقوق جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی رہی ہیں۔
راجیہ سبھا میں راگھو چڈھا نے بارہا گگ اکنامی کے کارکنان، خصوصاً سویگی، زومیٹو اور دیگر پلیٹ فارمز کے ڈیلیوری ورکرز کے حالات پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے ۱۰؍ منٹ ڈیلیوری جیسے ماڈلز کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ورکرز شدید دباؤ، حادثات اور کم اجرت کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ان ورکرز کو ’’انڈین اکانومی کے اَن دیکھے پہیے‘‘ قرار دیا اور سوشل سیکوریٹی، انشورنس، پی ایف اور بہتر اجرت کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کی مسلسل مداخلت کے بعد گگ ورکرز کے حقوق پر قومی سطح پر بحث تیز ہوئی اور حکومت کو بھی اس شعبے میں ضابطہ سازی پر غور کرنا پڑا۔
راگھو چڈھا نے صارفین کے حقوق کے حوالے سے بھی پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی، خاص طور پر پیک شدہ مشروبات کی گمراہ کن برانڈنگ کے معاملے پر۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی کمپنیاں ’’فروٹ جوس‘‘ کے نام پر دراصل شوگر سیرپ فروخت کر رہی ہیں، جس سے صارفین دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیبلنگ کے قوانین سخت کئے جائیں تاکہ مصنوعات کی اصل نوعیت واضح ہو۔ اس معاملے کو اٹھانے کا مقصد نہ صرف شفافیت بڑھانا تھا بلکہ صحت عامہ کے حوالے سے عوام کو درست معلومات فراہم کرنا بھی تھا، کیونکہ ایسی مصنوعات طویل مدتی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔
چڈھا نے بینکنگ سیکٹر میں بڑھتے ہوئے ڈجیٹل فراڈ اور عام کھاتہ داروں کے نقصانات کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی ترقی کے ساتھ مالی جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور نچلے طبقے پر پڑتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بینکنگ سیکوریٹی کو مضبوط بنایا جائے، فراڈ کے متاثرین کیلئے فوری معاوضہ کا نظام ہو، اور سخت قوانین نافذ کئے جائیں۔ ان کی مداخلت کا مقصد مالی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنا اور صارفین کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔
تعلیم کے شعبے میں راگھو چڈھا نے سرکاری اداروں کی کمزوری، نجی تعلیم کی بڑھتی لاگت اور طلبہ کے قرضوں کے بوجھ جیسے مسائل کو بارہا اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم تیزی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہے، جس سے متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے تعلیمی اصلاحات، فیس کنٹرول، اور طلبہ کیلئے مالی معاونت کے بہتر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، تعلیم تک مساوی رسائی نہ ہونے سے نہ صرف نوجوانوں کے مواقع محدود ہوتے ہیں بلکہ ملک کی مجموعی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔
چڈھا نے پارلیمنٹ میں مہنگائی کو ایک مسلسل بحران کے طور پر پیش کیا، خاص طور پر ایندھن، خوراک اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے پر۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور غریب طبقے پر پڑتا ہے، جہاں آمدنی محدود اور اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے مؤثر پالیسی اقدامات کئے جائیں۔ ان کا موقف تھا کہ مہنگائی صرف اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست عوامی معیارِ زندگی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
صحت کے شعبے میں چڈھا نے مہنگے علاج، نجی اسپتالوں کی بلند فیس اور سرکاری نظام کی کمزوریوں پر توجہ دلائی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں صحت کی سہولیات تک رسائی غیر مساوی ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے سستی اور معیاری ہیلتھ کیئر کی فراہمی، انشورنس کوریج میں اضافہ اور سرکاری اسپتالوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ان کے مطابق، صحت کا نظام اگر عوام کیلئے قابلِ رسائی نہ ہو تو یہ سماجی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
راگھو چڈھا نے ٹیکس نظام میں عدم توازن اور مڈل کلاس پر بڑھتے مالی بوجھ کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ بعض اوقات غیر منصفانہ محسوس ہوتا ہے، جہاں متوسط طبقہ زیادہ دباؤ میں آ جاتا ہے۔ انہوں نے ایک زیادہ متوازن اور شفاف ٹیکس نظام کی ضرورت پر زور دیا، جس میں ٹیکس کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم ہو۔ ان کے مطابق، بہتر ٹیکس پالیسی نہ صرف عوامی اطمینان بڑھا سکتی ہے بلکہ معیشت کو بھی مستحکم کر سکتی ہے۔
چڈھا نے نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری کو ایک سنگین چیلنج قرار دیا اور اس مسئلے کو بارہا پارلیمنٹ میں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور روزگار کے درمیان خلا بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے نوجوانوں کو مناسب مواقع نہیں مل رہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ روزگار پیدا کرنے والی پالیسیز، اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامز اور صنعتوں کے فروغ پر توجہ دی جائے۔ ان کے مطابق، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ملک کی اقتصادی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔
چڈھا نے ماحولیاتی آلودگی، خاص طور پر شمالی ہندوستان میں فضائی آلودگی کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آلودگی صحت عامہ کیلئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے اور اس پر فوری توجہ ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت سے سخت ماحولیاتی پالیسیز، صنعتی اخراج پر کنٹرول اور پائیدار ترقی کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق، صاف ماحول صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی صحت اور مستقبل کی نسلوں کا سوال ہے۔
چڈھا نے وفاقی نظام میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کے توازن کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو مناسب خودمختاری دینا بہتر گورننس کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط وفاقی ڈھانچہ نہ صرف علاقائی انصاف کو فروغ دیتا ہے بلکہ پالیسی سازی کو بھی زیادہ مؤثر بناتا ہے۔ ان کے مطابق، مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون اور توازن ہی ایک مضبوط جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔