ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / خواتین ریزرویشن پر کانگریس کا حملہ، وزیرِاعظم پر مؤقف بدلنے کا الزام

خواتین ریزرویشن پر کانگریس کا حملہ، وزیرِاعظم پر مؤقف بدلنے کا الزام

Thu, 26 Mar 2026 18:09:07    S O News

نئی دہلی ، 26 /مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پرناری شکتی وندن ادھینیم۲۰۲۳ءکے نفاذ کے معاملے میں’اچانک یو ٹرن‘ لینے کا الزام لگایا اور اسے اہم قومی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ستمبر ۲۰۲۳ءمیں جس نئے پارلیمنٹ ہاؤس کا افتتاح ہوا تھا، وہیں اس تاریخی قانون کو منظور کیا گیا تھا۔

اس قانون کے ذریعے آئین میں ترمیم کر کے لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مختص کرنے کا التزام کیا گیا تھا۔ اس قانون میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے مخصوص نشستوں کے اندر بھی ایک تہائی ریزرویشن فراہم کرنے کا التزام شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان تحفظات کو لاگو کرنے کا کام واضح طور پر نئی حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) اور مردم شماری کے عمل کی تکمیل سے مشروط کیا گیا تھا۔ جے رام رمیش نے کہا’یہ دونوں ریزرویشن تبھی نافذ ہونے تھے جب حد بندی اور مردم شماری کا کام مکمل ہو جاتا۔

کانگریس لیڈر نے یاد دلایا کہ بل پر پارلیمانی بحث کے دوران کانگریس نے ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات سے ہی اسے فوری نافذ کرنے کا زوردار مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا’تب مودی حکومت نے یہ دلیل دی تھی کہ حد بندی اور مردم شماری کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔‘ وزیر اعظم پر اپنا موقف بدلنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا’اب یو ٹرن استاد نے ۳۰؍ ماہ بعد اچانک اپنا ذہن بدل لیا ہے اور وہ اب حدبندی اور مردم شماری کے بغیر ہی ریزرویشن لاگو کرنا چاہتے ہیں۔‘ انہوں نے الزام لگایا کہ اس اقدام کا وقت سیاسی طور پر محرک ہے۔ کانگریس لیڈر نے مزید کہا’وزیر اعظم توجہ بھٹکانے والے بڑے ہتھیار استعمال کرنے میں بے مثال ہیں۔

اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور ملک میں ایل پی جی و توانائی کے بحران سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے بے تاب ہو کر انہوں نے یہ نیا قدم اٹھایا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ حکومت اگلے پندرہ دنوں میں پارلیمنٹ کا دو روزہ خصوصی اجلاس بلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ اس قانون میں ترمیم کر کے ریزرویشن  کے التزامات کو نافذ کیا جاسکے۔مسٹر رمیش نے ان رپورٹوں پر بھی تشویش ظاہر کی جن میں کہا گیا ہے کہ حکومت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے حجم (نشستوں کی تعداد) میں ۵۰؍فیصد تک اضافے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے اس تجویز پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ مجوزہ پارلیمانی اجلاس کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے الیکشن کمیشن کے ’ضابطۂ اخلاق‘ (ایم سی سی) کی کمزوری پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اپریل میں خصوصی اجلاس بلانا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہو گی۔ کانگریس لیڈر نے ذات پات پر مبنی مردم شماری کرانے کے حوالے سے حکومت کے عزم پر بھی سوال اٹھایا، جس کا اعلان حکومت نے اپریل ۲۰۲۵ءمیں کیا تھا۔


Share: