بغداد، 26 /مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)عراق کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ انبار صوبے میں الحبانيۃ فوجی اڈے (بغداد سے۱۲۰؍ کلومیٹر مغرب میں) پر ایک فضائی حملے کے نتیجے میں ۷؍ فوجی ہلاک اور۱۳؍زخمی ہو گئے ہیں۔وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا: الحبانیۃ فوجی طبی مرکز اور الحبانيۃ کام کی شاخ وزارت دفاع کے الحبانيۃ اڈے کی کمانڈ کے تحت ہے، آج صبح ایک فضائی حملے کا نشانہ بنی، جس کے بعد ہوائی توپ سے فائر کیا گیا۔اس کے نتیجے میں ہمارے۷؍ فوجی شہید اور۱۳؍ زخمی ہوئے اور ریسکیو ٹیمیں اب بھی جائے وقوعہ پر تلاش اور بچاؤ کے کام میں مصروف ہیں۔وزارت نے کہا کہ اس حملے کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی صریح اور سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ میڈیکل مراکز اور وہاں کام کرنے والے عملے کو نشانہ بنانا ممنوع ہے۔بیان میں مزید کہا گیاکہ یہ جابرانہ کارروائی ایک سنگین جرم ہے جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے اور ذمہ دار افراد کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے، کیونکہ میڈیکل مراکز پر حملہ جرم ہے، یہ ادارے زندگی بچانے اور فوجیوں کی دیکھ بھال کے لیے کام کرتے ہیں۔ وزارت دفاع نے کہا کہ کارروائیاں ہمارے اہلکاروں کو اپنے قومی اور انسانی فرض کی ادائیگی سے نہیں روک سکتیں، بلکہ انہیں مزید عزم اور حوصلے کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھنے پر آمادہ کریں گی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت دفاع اس حملے کے جواب میں قانونی دائرہ کار کے تحت تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
قبل ازیں فجر کے وقت الحبانيۃ اڈے پر ایک حملے میں۱۵؍ افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے لیے الحشد الشعبی نے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ایک سیکورٹی اہلکار نے بتایا کہ بدھ کے روز ایک لڑاکا طیارے نے اڈے پر دو میزائل داغے۔ہلاک شدگان میں الحشد الشعبی کے انبار صوبے آپریشنز کے کمانڈر سعد دوائی بھی شامل تھے۔اس حملے کے بعد عراقی حکام نے منگل کی شام کو سیکورٹی اداروں اور الحشد الشعبی کو، جو سرکاری افواج کا حصہ ہیں، جوابی کارروائی اور دفاع کا حق دے دیا تاکہ وہ اپنے مقامات پر ہونے والے حملوں کا جواب دے سکیں۔اسی روز اربیل میں کردستان کی فوج کے۶؍ افراد ایک راکٹ حملے میں ہلاک ہوئے۔
یاد رہے کہ۲۸؍ فروری سے امریکی - اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد عراق میں بھی اس تنازعہ کی آگ پھیلی ہے، جہاں ایران کے حامی عراقی مسلح گروہوں کے کئی مقامات پر امریکی حملے کیے گئے۔اسی دوران مسلح گروہوں نے بغداد میں امریکی سفارت خانے اور دیگر امریکی مقامات و اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ایران کے حامی عراقی گروہوں جو عراق میں اسلامی مزاحمت کے تحت ہیں، روزانہ کی بنیاد پر ڈرون اور راکٹ حملے کر رہے ہیں، مگر اکثر اہداف واضح نہیں ہوتے۔