ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / لبنان اور غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو سخت جواب دیا جائے گا: ایران کی اسرائیل کو وارننگ

لبنان اور غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو سخت جواب دیا جائے گا: ایران کی اسرائیل کو وارننگ

Wed, 25 Mar 2026 01:07:54    S O News
لبنان اور غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو سخت جواب دیا جائے گا: ایران کی اسرائیل کو وارننگ

دبئی 24/مارچ (ایس او نیوز/الجزیرہ/خلیج ٹائمز) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان اور غزہ میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا “سخت اور فیصلہ کن جواب” دیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں صورتحال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے اور بڑے تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ اور جنوبی لبنان میں فضائی حملوں میں حالیہ دنوں میں شدت آئی ہے، جہاں رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لبنان میں جاری جھڑپوں کے باعث بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ میں پہلے سے جاری انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ شہریوں پر حملے اس کے لیے “ریڈ لائن” ہیں، اور ایسی کسی بھی کارروائی کی صورت میں اسرائیل کے خلاف براہِ راست یا بالواسطہ سخت ردعمل دیا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی اشارہ دیا کہ خطے میں اس کے اتحادی گروہ بھی اس ردعمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔

دوسری جانب خلیج ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ بڑھ گیا ہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے ایران اور اس کے حمایت یافتہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔

عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ایک نازک موڑ پر ہے، جہاں کسی بھی جانب سے مزید شدت اختیار کرنے والی کارروائی خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششیں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت دکھانے میں ناکام رہی ہیں۔


Share: