بھٹکل 24/مارچ (ایس او نیوز) : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے جڑی رکاوٹوں کے اثرات اب مقامی سطح پر بھی ظاہر ہونے لگے ہیں، جہاں بھٹکل میں کمرشیل ایل پی جی گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوگئی ہے۔
منگل دوپہر کے بعد شہر کے اہم فیول اسٹیشنوں پر ایل پی جی کی فراہمی اچانک بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں آٹو رکشے سڑکوں سے غائب ہوگئے اور مقامی ٹرانسپورٹ نظام متاثر ہوا۔ ڈرائیورز آپریشن غیر ممکن ہونے کے باعث اپنی گاڑیاں گھروں کے باہر پارک کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
آٹو ڈرائیور محمد جاوید مُکری نے بتایا کہ بھٹکل میں تقریباً 95 فیصد آٹو رکشے ایل پی جی پر چلتے ہیں جبکہ صرف 5 فیصد سی این جی استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی سے قبل ایل پی جی کی قیمت تقریباً 52 روپے فی لیٹر تھی، جو بحران کے بعد بڑھ کر 84اور 85 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ انہوں نے مزید کہا، “منگل دوپہر سے اہم فیول اسٹیشنوں پر ایل پی جی دستیاب نہیں ہے، جس کے باعث ہمیں اپنی خدمات معطل کرنی پڑ رہی ہیں۔” ان کے مطابق 50 سے زائد ڈرائیورز پہلے ہی اپنی سروس بند کرچکے ہیں۔
بھٹکل آٹو رکشہ یونین کے صدر وینکٹیش نائک نے بتایا کہ شہر میں تقریباً 1300 آٹو رکشے ہیں، جن میں سے قریب ایک ہزار ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منگل صبح تک سپلائی معمول کے مطابق جاری تھی، تاہم دوپہر کے بعد دو اہم اسٹیشنوں پر اچانک بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں متعدد ڈرائیورز کو اپنی خدمات روکنی پڑیں۔ تاہم سی این جی کی سپلائی بدستور جاری ہے، اور جن گاڑیوں میں پہلے سے ایل پی جی موجود ہے وہ محدود پیمانے پر چل رہی ہیں۔
شہر میں سٹی بس سروس نہ ہونے کے باعث عوام کی روزمرہ آمدورفت کا زیادہ تر انحصار آٹو رکشوں پر ہے۔ ایسے میں اگر ایل پی جی سپلائی جلد بحال نہ ہوئی تو شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔